(12 مئی 2026): صومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز پر یرغمال بنائے گئے عملے کی رہائی کے لیے تاوان 10 ملین ڈالر کر دیا ہے۔
العربیہ کے مطابق کے مطابق صومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز ایم ٹی یوریکا پر قبضہ کر کے اس پر یرغمال بنائے گئے عملے میں سے مصری عملے کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ دُگنا کرتے ہوئے 10 ملین ڈالر کر دیا ہے۔
جہاز پر پاکستان کے 11 افراد سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مغوی بھی شامل ہیں۔ ان میں مصری عملے کی تعداد 8 ہے۔
مذاکرات میں تعطل اور رابطوں کے منقطع ہونے کے ساتھ محبوس افراد کے انجام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے اس المیے کے خاتمے کے لیے مصری اور بین الاقوامی مداخلت کی دہائیاں دی جا رہی ہیں۔
تیل بردار جہاز پر اغوا ہونے والے تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم المحسب کے بھائی احمد راضی بتایا کہ انہیں چند روز قبل اپنے بھائی کی ایک فون کال موصول ہوئی جو 5 منٹ سے زیادہ نہیں تھی، جس میں اس نے تصدیق کی کہ مالکانہ کمپنی اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے تھے جب مطلوبہ تاوان کی رقم 3 ملین ڈالر تک پہنچی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے بعد میں دوبارہ رابطہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جہاز پر حالات خراب ہو رہے ہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ انہوں نے مصری اداروں سے انہیں بچانے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب انجینئر محمد راضی عبدالمنعم کی اہلیہ امیرہ محمد نے بتایا کہ حالات انتہائی مشکل ہیں۔ جہاز کی مالکانہ کمپنی کی جانب سے مطلوبہ تاوان ادا کرنے سے انکار کے باعث اب تک کوئی مداخلت نہیں کی گئی اور وہ محبوس افراد سے رابطہ کرنے یا ان کی خیریت جاننے سے بھی قاصر ہیں۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بحری جہاز اغوا کرنے والے مسلح گروہ نے شروع میں 3 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا جسے بعد میں بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دیا گیا۔ بحری جہاز پر موجود افراد کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مسلح افراد اغوا شدگان اور ان کے خاندانوں کے درمیان 5 منٹ سے کم دورانیے کی مختصر کال کی اجازت دے رہے تھے لیکن کمپنی کی جانب سے اغوا کاروں سے مذاکرات بند کرنے کے بعد حالات مزید دشوار ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پنٹ لینڈ کے علاقے کے قریب پیش آنے والے بحری جہاز کے اغوا کے واقعے کی باریک بینی سے نگرانی کر رہی ہے۔
وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے موغادیشو میں مصری سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ جہاز پر موجود آٹھوں مصری ملاحوں کی صورتحال پر نظر رکھیں، انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کریں، ان کی جلد رہائی کے لیے کام کریں اور مصری ملاحوں کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صومالی حکام کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کریں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


