نئے پاکستان کی قومی اسمبلی کی تاریخ ساز تشکیل: چند دل چسپ حقائق کے ساتھ -
The news is by your side.

Advertisement

نئے پاکستان کی قومی اسمبلی کی تاریخ ساز تشکیل: چند دل چسپ حقائق کے ساتھ

ادھرپاکستان کی جمہوری تاریخ نے اہم سنگِ میل عبور کیا اور ادھر نئے اور دل چسپ واقعات کا ظہور ہونے لگا، پورا ملک ایک نئی کروٹ لیتا دکھائی دے رہا ہے۔

ملک کی تاریخ میں مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی اپنی تشکیل کے عمل سے پُر امن طور پر گزرنے لگی ہے، اراکین نے حلف اٹھا لیا ہے، ایک دوسرے کے دشمن سمجھے جانے والے ایک بار پھر جمہوری اسٹیج پر مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے دکھائی دیے۔

عام لوگ ایسے مناظر دیکھ کر ایک دوسرے کی پارٹی وابستگیوں کو طنز کا نشانہ بنانے لگتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انتخابی سیاست الگ ہوتی ہے اور حکومت بننے کے بعد ملکی معاملات چلانے کا عمل بالکل الگ ہوتا ہے۔

ایک دہائی سے قوم جس شخص کا نام لے رہی ہے اور جس کا نام اکثر منفی طور پر لیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ان کا نام بھی نہیں لیا جاتا اور اشارہ کردیا جاتا ہے کہ ’سمجھ تو گئے ہوں گے‘ جس نے پہلی بار ملکی تاریخ کو نئی سمت دکھائی، اور جمہوری حکومت کو پانچ سال کا ہندسہ عبور کروایا، وہ آصف علی زرداری پہلی بار  اسمبلی میں قدم رکھنے والے اپنے بیٹے بلاول کے ساتھ قومی اسمبلی میں داخل ہوئے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کی فہرست والی دستاویز پر سب سے پہلا دستخط بھی زرداری نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کیا، انتخابات 2018 میں ایک دوسرے کے بد ترین حریف دکھائی دینے والے پارٹی سربراہان عمران خان، آصف زرداری، بلاول زرداری اور شہباز شریف ایوانِ بالا میں ایک ساتھ دکھائی دیے۔

ملک کی مسلسل تیسری مرتبہ تشکیل پانے والی اسمبلی کا سب سے اہم واقعہ وہ تھا جب عمران خان اور آصف زرداری نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا، شرمائے اور کپتان نے سابق صدر سے ہاتھ ملا لیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ یوٹرن کا نان اسٹاپ طعنہ دینے والے چھوٹے زرداری نے نئے پاکستان کے متوقع وزیرِ اعظم کے ساتھ تصویر بھی بنوائی، اور شوباز کی پھبتی جس پر کستے رہے تھے ان کے ساتھ مصافحہ کیا۔ یوں نئے پاکستان کی نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس سیاست دانوں کی مسکراہٹوں کی نذر ہو گیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی 15 ویں قومی اسمبلی میں اس بار کچھ نئے چہرے بھی شامل ہوگئے ہیں، جس سے نئے پاکستان کا عکس اور عزم بھی جھلکتا ہے۔ ان نئے چہروں میں بلاول زرداری، فیصل واوڈا، خیبر پختونخوا کی پرعزم خاتون زرتاج گل، اسد قیصر، سابق وزیرِ اعلیٰ کے پی پرویز خٹک، علی زیدی اور چوہدری حسین الہیٰ شامل ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ سب سے کم عمر پارلیمنٹیرین بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ 26 سالہ چوہدری حسین الٰہی صدر مسلم لیگ (ق) چوہدری شجاعت حسین کے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت کے صاحب زادے ہیں۔

نئے پاکستان کی نئی قومی اسمبلی سے اس بار کچھ پرانے بھی آؤٹ ہو گئے ہیں جو اس ملک کے لیے سب سے بڑا نیک شگون بھی ہے، ان میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی خان، خواجہ سعد رفیق اور چوہدری نثار علی خان شامل ہیں۔ سب سے بڑا اَپ سیٹ وہ تھا جب جیپ قومی اسمبلی میں رسائی حاصل نہ کرسکی۔

نئے پاکستان میں ابھی ہمیں مزید کیا کچھ دیکھنا پڑے گا، یہ وقت کے ساتھ ساتھ معلوم ہوتا جائے گا، عمران خان نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔ اس وقت پورے ملک میں ’سرسبز پاکستان‘ کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر پودے اُگانے کی مہم جاری ہے، جس کا آغاز تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا میں درخت اگانے کی مہم کے ساتھ کیا تھا، جسے الیکشن سے قبل اے آر وائی کی ٹیم نے آگے بڑھایا اور اب پاک فوج اسے ایک نئی سطح تک لے جا رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں