دوحا(14 جنوری 2026): قطر میں ال عدید ملٹری بیس سے امریکا کے کچھ فوجیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بعض اہلکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بدھ کی شام تک قطر میں امریکی فوج کے ال عدید ایئر بیس سے نکل جائیں، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔
دوحا میں امریکی سفارت خانے کی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا اور قطر کی وزارت خارجہ نے روئٹرز کی تصدیق یا تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
ال عدید مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10,000 فوجی موجود ہیں۔
ایک سفارت کار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ قطر میں امریکی فوجی اڈے کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظرکیا گیا ہے، یہ ہدایت احتیاطی تدابیر کے طور پردی گئی ہے تاہم مکمل انخلا کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد محدود سطح پراقدام کیا، امریکی اورقطری حکام باہمی رابطے میں ہیں اورسیکیورٹی صورتحال پرنظرہے، قطرمیں امریکی فوجی اڈے کو خطے میں امریکا کی اہم اسٹرٹیجک تنصیب سمجھا جاتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو پہلے بتایا تھا کہ تہران نے علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن کی جانب سے حملہ کیا گیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرے گا۔ یاد رہے کہ یہ دھمکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مداخلت کی دھمکی کے بعد آئی ہے۔
گزشتہ سال، امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں سے ایک ہفتہ سے زیادہ پہلے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں سے بعض اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ جون میں امریکی حملوں کے بعد ایران نے قطر میں اس اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


