ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

جدید سپرسونک مسافر طیارے ‘سن آف کونکورڈ’ نے تاریخی سنگِ میل عبور کرلیا

اشتہار

حیرت انگیز

نیویارک : جدید ترین سپرسونک مسافر طیارے ‘سن آف کونکورڈ’ نے آزمائشی پرواز میں آواز کی رفتار عبور کرنے کا تاریخی سنگِ میل عبور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ نے کمرشل فضائی سفر کو تیز ترین اور پرسکون بنانے کی سمت میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔

ناسا کے تیار کردہ جدید ترین سپرسونک مسافر طیارے X-59 نے پہلی بار کامیابی سے آواز کی رفتار کو عبور کر لیا ہے، جس کے بعد دنیا بھر کے شہروں (جیسے نیویارک اور لندن) کے درمیان فضائی سفر کا وقت سمٹ کر 4 گھنٹے سے بھی کم رہ جائے گا۔

جدید طیارے کی اپنی 81 منٹ طویل آزمائشی پرواز کے دوران رفتار 713 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔

ماضی کے مشہور ‘کونکورڈ’ طیارے کے برعکس ناسا کا یہ نیا طیارہ صرف اپنی تیز رفتار کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی "خاموشی” کی وجہ سے دنیا کو حیران کر رہا ہے۔


دہائیوں سے سپرسونک سفر کا سب سے بڑا مسئلہ وہ شدید دھماکہ خیز آواز تھی جو آواز کی رفتار توڑتے وقت پیدا ہوتی تھی اور جس کی وجہ سے امریکہ نے 1973 میں زمین کے اوپر شہری سپرسونک پروازوں پر پابندی لگا دی تھی۔

تاہم ناسا کے X-59 طیارے کا لمبا ناک اور منفرد ڈیزائن اس جھٹکے کی لہروں کو اس طرح پھیلا دیتا ہے کہ زمین پر رہنے والوں کو دھماکے کے بجائے صرف ایک ہلکی سی "تھپکی” سنائی دیتی ہے۔

اس مستقبل مزاج طیارے کا ایک اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اس کے کاک پٹ میں سامنے کی طرف کوئی شیشہ یا کھڑکی نہیں ہے، پائلٹ سامنے کا منظر دیکھنے کے لیے ہائی ڈیفینیشن کیمروں اور آگمینٹڈ رئیلٹی ڈسپلے پر مشتمل ‘ایکسٹرنل وژن سسٹم’ پر انحصار کرتا ہے۔

کامیاب پرواز کے بعد ٹیسٹ پائلٹ جیمز لیس کا کہنا تھا کہ "آپ کو سپرسونک ہونے کا پتہ صرف اسپیڈ میٹر دیکھ کر ہی چلتا ہے، اندر کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا، یہ پرواز انتہائی ہموار تھی اور ہم آسانی سے میاک 1.1 (Mach 1.1) کی رفتار تک پہنچ گئے۔”

ناسا کے مطابق کتوبر 2025 میں اپنی پہلی اڑان کے بعد سے یہ طیارہ اب تک درجنوں کامیاب ٹیسٹ مکمل کر چکا ہے اور یہ کامیابی کمرشل سپرسونک سفر کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں