The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی نئی قسم کا فوری پتا لگانے پر سزا دی جا رہی ہے: جنوبی افریقہ

کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقہ نے شکوہ کیا ہے کہ اب تک کے سب سے خطرناک کووِڈ وائرس اومیکرون کا فوری سراغ لگانے پر اسے سراہے جانے کی بجائے سزا دی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے افریقہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگائی گئی ہے، وزرات خارجہ نے اسے جنوبی افریقہ کو سزا دینے کے مترادف قرار دے دیا ہے۔

جنوبی افریقی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمیں کرونا کی نئی قسم کا فوری پتا لگانے کی سزا دی جا رہی ہے، حالاں کہ شان دار سائنس کو اسے سراہنا چاہیے نہ کہ سزا نہیں دینی چاہیے۔

وزارت نے نشان دہی کی ہے کہ اومیکرون دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دریافت ہوئی تھی، ان میں سے کسی بھی کیس کا جنوبی افریقہ سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن ان ممالک کے ساتھ رویہ جنوبی افریقہ سے واضح طور پر مختلف ہے۔

کرونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے خلاف موڈرنا ویکسین کی بوسٹر شاٹ

جنوبی افریقہ نے کہا ہے کہ دنیا کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہم بھی وبا سے نمٹنے کے لیے بہتر اقدامات کر رہے ہیں، ہمیں دنیا کی بہترین سائنسی کمیونٹی کی حمایت حاصل ہے، اور ٹیسٹ کی صلاحیت بہترین ہے۔

واضح رہے کہ نئے ویریئنٹ کا پتا جنوبی افریقی سائنس دانوں نے لگایا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا کی نئی قسم کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے اسے omicron کا نام دیا، اس ویریئنٹ کا تکنیکی نام B.1.1.529 ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس نئی قسم میں کووِڈ نائنٹین نے وسیع سطح پر اپنی ہیئت اور شکل تبدیل کر لی ہے، جس سے اس وائرس میں بار بار انفیکشن ہونے کا خطرہ دیگر تمام اقسام سے زیادہ ہو گیا ہے۔

اب تک امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، بھارت اور کینیڈا نے جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافروں پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں