جنوبی کوریا کے صدر نے غیر ملکی بچے گود لینے کی اسکیم پر معافی مانگ لی، اُن کا کہنا تھا کہ اسکیم سے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کوشدید اذیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر نے گود لیے بچوں اوران کے والدین کو معذرت پیش کی، جنوبی کوریا کے ٹروتھ کمیشن نے اسکیم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
تحقیقات میں جعلسازی، بچوں کو یتیم ظاہر کرنے کے جھوٹے کاغذات سامنے آئے، بچوں کی شناختیں بدلی گئیں،گمراہ کن معلومات پر بیرون ملک بھجوایا گیا۔
امریکی ٹی وی اینکر لائیو شو کے دوران اہلیہ پر سیخ پا ہوگئے
رپورٹس کے مطابق 1950 کی کوریا جنگ کے بعد مخلوط نسل کے بچوں کو معاشرے سے نکالنے کیلئے اسکیم شروع کی گئی، 1955 سے 1999 کے دوران ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد بچے بیرون ملک بھجوائے گئے۔
یورپ، امریکا اور آسٹریلیا بھیجے گئے بچوں نے حکومت کیخلاف شکایات درج کرائیں، صدر نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور والدین تلاش کرنے کیلئے نظام بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


