The news is by your side.

Advertisement

ہتھنی کی وجہ موت طبعی قرار، چڑیا گھر کے افسران بری الذمہ

لاہور : تحقیقاتی کمیٹی نے چڑیا گھر کی ہتھنی سوزی کی موت کو طبعی قرار دیتے ہوئے سابق ڈائریکٹر زو کو بری الذمہ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لا ہور کے چڑیا گھر کی ہر دلعزیز ہتھنی سوزی کی موت کے حقائق جاننے کے لیے بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی نے سوزی کی موت کو وزن کا زیادہ ہونا قرار دیا جب کہ سابق ڈائریکٹر زو شفقت علی کو بری الذمہ ٹہرایا گیا۔

ذرائع کے مطابق سو صحفات پرمشتمل رپورٹ میں سوزی کی موت کو طبعی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سوزی گذشتہ پانچ سال سے گھٹنوں کے درد اور سوجن میں مبتلا تھی جب کہ انکلیو چھوٹا ہونے کے باعث چلنے پھرنے میں بھی مشکلات کا سامنا تھا جس کے باعث وہ موٹاپے کا شکار ہوگئی۔


لاہور چڑیا گھر کی ہتھنی سوزی چل بسی، بچے افسردہ


ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ سوزی کے قدرتی ماحول سے دوری اور موٹاپے ہی کو موت کی وجہ بتا یا گیا جس کے لیے تحقیقاتی کمیٹی نے سابق ڈائریکٹر سمیت چڑیا گھر کے آٹھ اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جس کے دوران بیشترارکان نے سابق ڈائریکٹر زو کو اس معاملے میں بے قصور قراردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سوزی کی موت کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سیکرٹری تحفظ جنگلی حیات کو بھی بھجوائی جائے گی جس کی روشنی میں جانوروں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے حوالے سے اہم سفارشات مرتب کی جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں