The news is by your side.

Advertisement

ایس پی طاہر داوڑ کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

چمن : شہید ایس پی طاہر داوڑ کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ طورخم بارڈر پر مذاکرات کی اندرونی کہانی اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق پاک افغان مذاکرات میں امتیاز وزیر نامی شخص افغان حکام کی قیادت کررہا تھا، مذاکرات کے دوران امتیاز وزیر نامی شخص کا رویہ بہت جارحانہ تھا اس کی مسلسل ضد رہی کہ طاہر داوڑ میت صرف منظور پشتین کو دی جائے گی۔

اس موقع پر محسن داوڑ اور امتیاز وزیر کے درمیان دس منٹ تک تنہائی میں بات چیت بھی ہوئی، اس حوالے سے ذرائع بتاتے ہیں کہ امتیاز وزیر اور محسن داوڑ پہلے سے ہی ایک دوسرے سے واقف بھی لگ رہے تھے۔

محسن داوڑ نے ہی امتیاز وزیر کو راضی کیا کہ میت عمائدین کے حوالے کر دی جائے، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امتیاز وزیر اس وقت افغانستان کے شہر کابل کے فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش پذیر ہے۔

اس کے علاوہ وہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے، امتیاز وزیر کا تعلق اسپین وام ششی خیل کے علاقے سے ہے۔ امتیاز وزیر دو ہزار تیرہ میں پاکستان آیا تھا اور اس نے اے این پی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔

مزید پڑھیں : افغان حکام کا ایس پی طاہرداوڑ کا جسد خاکی پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار

واضح رہے کہ افغان حکام نے ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جسد خاکی صرف محسن داوڑ کو ہی دیا جائے گا، ایم این اے محسن داوڑ کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے۔

بعد ازاں پشاور کے شہید پولیس سپرنٹنڈنٹ طاہر خان داوڑ کی میت گزشتہ شام طورخم میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی وفدکے حوالے کر دی گئی۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت شہریار خان آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی طاہر داوڑ کی میت وصول کرنے کے لئے طورخم میں موجود تھے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں