واشنگٹن (15 جنوری 2026): بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود ایک خلا باز کی طبیعت اچانک پر اسرار طور پر خراب ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے عملہ مشن نامکمل چھوڑ کر زمین پر واپس آ گیا ہے۔
ناسا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ایک ایسے خلا باز کو واپس زمین پر لے آیا ہے جو ایک ’’سنگین طبی حالت‘‘ کا شکار ہے۔ اسپیس ایکس کے کریو-11 مشن کے چاروں ارکان زمین پر واپس اتر چکے ہیں، وہ مقررہ وقت پر کیلیفورنیا کے قریب سمندر میں بہ حفاظت اترے۔
عملے میں امریکا کے دو، جاپان اور روس کا ایک ایک خلاباز شامل ہے۔ 7 خلاباز اس وقت خلائی اسٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ ناسا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ خلائی مشن میڈیکل وجوہ کی وجہ سے نامکمل رہا۔
روئٹرز کے مطابق اینڈیور نامی ڈریگن کیپسول، جس میں ناسا کے دو امریکی خلا باز، ایک جاپانی عملے کا رکن اور ایک روسی خلا نورد سوار ہیں، بدھ کو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر خلائی اسٹیشن سے الگ ہوا اور مدار سے زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا۔ یہ کیپسول آج جمعرات کی صبح سویرے کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں سمندر پر اترا۔
چین نے پھر حیران کر دیا، چاند کے وقت کے تعین کے لیے دنیا کی پہلی گھڑی تیار
بتایا گیا ہے کہ عملے میں شامل ایک خلا باز کسی سنگین طبی حالت کا شکار ہو گیا ہے، تاہم نہ تو یہ بتایا گیا ہے کہ کس خلاباز کی طبیعت خراب ہے اور نہ ہی یہ کہ اسے کیا ہوا ہے۔
ناسا کی براہِ راست ویب کاسٹ سے دکھائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کیپسول بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے الگ ہو کر آہستہ آہستہ مدار میں گردش کرتی تجربہ گاہ سے دور ہوتا گیا۔ ویڈیو میں خلا بازوں کو عملے کے کیبن میں اپنی نشستوں پر ساتھ ساتھ بیٹھے، بیلٹ باندھے ہوئے اور بلیک اینڈ وائٹ خلائی لباس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے دیکھا گیا۔
کریو-11 کے تمام چار ارکان کو طے شدہ وقت سے چند ہفتے پہلے زمین واپس لانے کے منصوبے کا اعلان 8 جنوری کو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے بتایا تھا کہ عملے میں شامل ایک خلا باز کو ایک ’’سنگین طبی مسئلہ‘‘ درپیش ہے، جس کے لیے زمین پر فوری طبی معائنے اور علاج کی ضرورت ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ناسا نے صحت کی کسی ایمرجنسی صورت حال کے باعث بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کسی عملے کا مشن وقت سے پہلے ختم کیا ہو۔ ناسا کے حکام نے رازداری کے تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے نہ تو یہ بتایا کہ چار میں سے کون سا خلا باز طبی مسئلے کا شکار ہے اور نہ ہی اس مسئلے کی نوعیت کی وضاحت کی۔
عملے میں شامل افراد میں 38 سالہ امریکی خلا باز زینا کارڈمین، 58 سالہ امریکی خلا باز مائیک فنکے، 55 سالہ جاپانی خلا باز کیمیا یوئی، اور 39 سالہ روسی خلا نورد اولیگ پلاٹونوف شامل ہیں۔ یہ چاروں افراد اگست میں فلوریڈا سے مدار میں روانہ ہونے کے بعد خلائی اسٹیشن پہنچے تھے۔
مائیک فنکے امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ کرنل اور خلائی اسٹیشن کے نامزد کمانڈر تھے، زینا کارڈمین پہلی بار خلا میں جانے والی خلا باز اور جیو بایولوجسٹ ہیں اور فلائٹ انجینئر کے طور پر تعینات تھیں، گزشتہ ہفتے انھیں اسٹیشن کے باہر آلات نصب کرنے کے لیے 6 گھنٹے سے زائد دورانیے کی خلائی چہل قدمی انجام دینا تھی۔ تاہم یہ اسپیس واک 7 جنوری کو منسوخ کر دی گئی، جس کی وجہ ناسا نے اس وقت ایک خلا باز سے متعلق ’’طبی تشویش‘‘ بتائی تھی۔
بعد ازاں ناسا کے چیف ہیلتھ اینڈ میڈیکل آفیسر جیمز پولک نے کہا کہ یہ طبی ہنگامی صورتحال ’’آپریشنز کے دوران پیش آنے والی کسی چوٹ‘‘ سے متعلق نہیں تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


