نیویارک : ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا سب سے بڑا آئی پی او لانچ کردیا گیا ، جس کی قیمت 135 ڈالرز فی شیئر مقرر کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ایلون مسک کی کمپنی "اسپیس ایکس” نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او لانچ کر کے وال اسٹریٹ اور عالمی مالیاتی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔
اسپیس ایکس نے مارکیٹ سے ریکارڈ 75 ارب ڈالرز کے فنڈز جمع کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی سعودی عرب کی تیل کمپنی ‘سعودی آرامکو’ کا سب سے بڑے آئی پی او کا تاریخی ریکارڈ بھی پاش پاش ہو گیا ہے۔
وال اسٹریٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپیس ایکس کی قیمت 135 ڈالرز فی شیئر مقرر کی گئی تھی اور کمپنی کے 55 کروڑ 55 لاکھ سے زائد شیئرز فروخت کے لیے پیش کیے گئے۔
مارکیٹ میں کمپنی کے شیئرز کی مانگ اس قدر غیر معمولی دیکھی گئی کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے 100 ارب ڈالرز سے زائد کے آرڈرز موصول ہوئے، جو کہ مقررہ حد سے 4 گنا زیادہ ہے،اس تاریخی کامیابی کے بعد اسپیس ایکس کی مجموعی مالیت 17 کھرب 70 ارب ڈالرز (1.77 ٹریلین ڈالرز) تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ ‘نیسڈیک’ پر اسپیس ایکس کی ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز "SPCX” کے نام سے ہو رہا ہے، اس ریکارڈ بزنس کے ساتھ ہی اسپیس ایکس امریکہ کی ساتویں بڑی پبلک لسٹڈ کمپنی بن گئی ہے، جس نے جے پی مورگن سمیت ایلون مسک کی اپنی کمپنی ‘ٹیسلا’ اور فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ‘میٹا’ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
کمپنی نے غیر روایتی طور پر 30 فیصد شیئرز عام سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیے تھے، جس نے عوام میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس شاندار کامیابی کے بعد ایلون مسک کی دولت اور اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، کمپنی کے پبلک ہونے کے باوجود ایلون مسک کے پاس کمپنی کی 82 فیصد ووٹنگ پاور رہے گی، جس کا مطلب ہے کہ بورڈ ممبران ایلون مسک کو ان کی مرضی کے بغیر ان کے عہدے سے کبھی نہیں ہٹا سکیں گے اور کمپنی کا مکمل کنٹرول انہی کے ہاتھ میں رہے گا۔
عالمی مالیاتی تجزیہ کاروں نے اسپیس ایکس کی موجودہ قیمت اور مستقبل کے منافع کو غیر معمولی اور تاریخی قرار دیا ہے


