ہفتہ, اگست 15, 2026
اشتہار

اسپیس ایکس کا راکٹ ’’چاند‘‘ سے ٹکرا گیا، زمین پر کیا اثرات ہوں گے؟

اشتہار

حیرت انگیز

(5 اگست 2026): ڈیڑھ سال تک خلا میں بھٹکنے کے بعد اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرا گیا کیا اس کے زمین پر اثرات ہوں گے؟

غیر ملکی میڈیا کے مطابق خلائی کمپنی اسپیس ایکس کی جانب سے خلا میں بھیجا گیا راکٹ ڈیڑھ سال تک خلا میں بھٹکنے کے بعد چاند سے ٹکرا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا بالائی حصہ چاند سے ٹکرایا۔

تقریباً پانچ منزلہ عمارت کے برابر اور 4000 کلو وزنی یہ بوسٹر جنوری 2025 میں امریکا اور جاپان کے مشترکہ قمری مشن کے تحت خلا میں بھیجا گیا تھا۔

مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا یہ حصہ تقریباً ڈیڑھ سال تک خلا میں بے مقصد گردش کرتا رہا۔ چاند اور سورج کی کششِ ثقل نے اس کا راستہ بدل دیا، اور بالآخر یہ چاند کی سطح سے جا ٹکرایا۔

ماہرین کے مطابق راکٹ کا پہلا مرحلہ لانچ کے بعد زمین پر واپس آگیا تھا تاہم دوسرا مرحلہ خلائی مشنز کو چاند کی سمت دھکیلنے کے لیے استعمال ہوا اور وہ خلا میں ہی موجود رہا۔

Science and Tech News from ARY News

اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق زمین کے قریب مدار میں جانے والے مشنز کے بعد راکٹ کے بالائی حصے کو عموماً زمین کی فضا میں جلا کر ختم کر دیا جاتا ہے لیکن زیادہ توانائی والے مشنز میں مختلف طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مشن میں بھی تمام حفاظتی اصولوں کے مطابق کارروائی کی گئی تھی تاہم سورج کی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے راکٹ کے بالائی حصے کا راستہ تبدیل کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تاہم اس واقعے کو سائنسی لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے چاند کی سطح پر ہونے والے اثرات اور خلائی ملبے کی حرکت سے متعلق مزید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں