The news is by your side.

Advertisement

لڑکے بھی ’اسکرٹ‘ پہن کر آئیں، اسکول انتظامیہ کا انوکھا حکم

میدرڈ: اسپین میں اسکول انتظامیہ نے لڑکوں کو بھی اسکرٹ پہن کر آنے کا حکم دے دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین میں اسکول انتظامیہ نے لڑکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لڑکیوں کی طرح اسکرٹ پہن کر کلاس میں آئیں، اسکول انتظامیہ نے ایسی ہدایت اس پیغام کو عام کرنے کے لیے دی کہ کپڑوں کی کوئی صنف نہیں ہوتی۔

ایڈںبرگ کے کیسل ویو پرائمری اسکول نے طلبا و طالبات دونوں کو کلاس میں اسکرٹ پہن کر آنے کو کہا ہے جس کے بعد تمام طلبا نے ’ویئر اے اسکرٹ ٹو اسکول‘ تحریک میں شرکت کی، یہ ’کلاتھ ہیو نو جینڈر‘ تحریک کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب 15 سال کے طالب علم مائیکل گومز کو کلاس میں اسکرٹ پہننے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا، یہ تحریک سب سے پہلے ہسپانوی شہر بلباؤ میں شروع ہوئی تھی۔

کیسل ویو اسکول کے طلبا و طالبات کے ساتھ اساتذہ بھی اسکرٹ پہنے ہوئے نظر آئے، انہوں نے مائیکل گومز کے حق میں دقیانوسی خیالات کو ترک کرنے کے لئے ’ویئر اے اسکرٹ ٹو اسکول‘ تحریک میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اسکول کی خاتون ٹیچر مس وائٹ نے کہا کہ اسکول دقیانوسی خیالات کو توڑنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ہم نے ’ویئر اے اسکرٹ ٹو اسکول ڈے‘ کا اہتمام کیا ہے لیکن کسی کو اسکرٹ پہننے کے لئے مجبور نہیں کیا گیا۔

اسکول انتظامیہ کے اس اقدام کی کچھ والدین نے تعریف کی تو کچھ نے اس پر اعتراض بھی ظاہر کیا، کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کا تعلیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بچوں سے پڑھائی کرائیں، انہیں اس سب میں ملوث نہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں