اسلام آباد (5 جون 2026): اسپین کی نئی ریگولرائزیشن پالیسی کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کر دی گئی تاکہ پاکستانی شہری ایجنٹ کے جھانسے میں آ کر غیر قانونی طور پر وہاں جانے کی کوشش کر کے زندگی اور سرمایہ خطرے میں نہ ڈالیں۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری کی گئی وضاحت کے مطابق اسپین کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا حالیہ فیصلہ صرف ان افراد کیلیے ہے جو 01 جنوری 2026 سے پہلے وہاں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین میں موجود لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کیلیے خوشخبری
وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ پالیسی صرف اُن افراد کیلیے ہے جو مقررہ معیار پر پورا اترتے ہیں، مستقبل قریب میں کسی اور ایسی اسکیم کے متعارف ہونے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے، کسی بھی نئے داخل ہونے والے شخص کو اس پالیسی کے تحت ہرگز ریگولرائز نہیں کیا جائے گا۔
مزید کہا گیا کہ ذہن نشین کر لیں کہ آخری بار ایسی اسکیم 2005 میں متعارف کروائی گئی تھی، لہٰذا کسی بھی ایجنٹ کے جھانسے میں آ کر غیر قانونی طور پر اسپین جانے کی کوشش کر کے اپنی زندگی اور سرمایہ خطرے میں نہ ڈالیں۔


