جمعہ, جون 12, 2026
اشتہار

یورپی ملک کا بچوں کیلیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسپین میں بھی  16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین نے کم عمر صارفین کے تحفظ کیلئے سخت قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کانظام لازمی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانا ہے اور دوسرے یوروپی ممالک پر بھی اسی طرح کے اقدامات پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسپین نے سرحد پار ریگولیشن کو مربوط کرنے کے لئے پانچ دیگر ممالک کے ساتھ ‘کولیشن آف دی ڈیجیٹل ولونگ’ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

آسٹریلیا دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا ملک تھا، اس اقدام کو دیگر ممالک نے بھی عمر کی بنیاد پر پابندیوں لگانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

اسپین سوشل میڈیا ایگزیکٹوز کو غیر قانونی مواد کے لیے جوابدہ ٹھہرانے، الگورتھمک ہیرا پھیری کو مجرمانہ بنانے اور عمر کی تصدیق کے مضبوط نظام کو مینڈیٹ کرنے کے لیے ایک بل بھی پیش کرے گا۔

ادھر یونان جلد ہی 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کرے گا۔ سینئر سرکاری ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ یونان 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کرنے کے "بہت قریب” ہے۔

دنیا بھر میں بچوں کی ذہنی صحت اور منفی رجحانات کے بڑھتے خدشات پر مختلف ممالک سوشل میڈیا کے حوالے سے پابندیاں، اصلاحات اور قانونی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

فرانس

فرانس کے ایوانِ زیریں میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا بل منظور کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ تاہم اس قانون کے نفاذ کے لیے سینیٹ سے منظوری ابھی باقی ہے۔

رائٹرز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ اقدام بچوں کو آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور ذہنی صحت کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔

فرانس کی قومی اسمبلی میں بل کے حق میں 116 جبکہ مخالفت میں 23 ووٹ ڈالے گئے۔ اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ایوانِ زیریں میں اس پر حتمی ووٹنگ کی جائے گی۔

بل کے متن کے مطابق کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث ذہنی صحت کے مسائل میں تشویشناک اضافہ ہوچکا ہے، جسے روکنا ناگزیر ہوچکا ہے۔

بل میں مڈل اسکولوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر عائد پابندی کو ہائی اسکولوں تک توسیع دینے کی تجویز بھی شامل ہے

یواےای

متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے نیا قانون چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی لا کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق اس قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو والدین کی واضح، تحریری اور قابل تصدیق اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ اجازت کسی بھی وقت اور بغیر کوئی وجہ بتائے واپس لینے کا آسان طریقہ بھی فراہم کرنا ہوگا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں