The news is by your side.

Advertisement

ہسپانوی پولیس کی مراکش میں کارروائی، انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ گرفتار

میڈرڈ :اسپین کے سیکیورٹی اداروں نے مراکش میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کو اسپین پہنچانے والے گروہ کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپین کے سیکیورٹی اداروں نے مراکش میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کو گرفتار کرلیا ہے، جو انتہائی تیز رفتار کشتیوں کا استعمال کرکے غیر قانونی طریقے سے تارکین وطن کو اسپین پہنچاتے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ گروپ تین افراد کو کشتی میں سوار کرتے تھے اور فی کس 4 ہزار یورو وصول کرکے محض آدھے گھنٹے میں مراکش سے اسپین کے درمیان 15 کلومیٹر ک سمندری پٹی کو طے کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق مراکش سے کشتی کے ذریعے اسپین میں داخل ہونے والے میاجرین کی تعداد کو نہایت تھوڑی ہے لیکن کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہونے کے رجحان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ہسپانوی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والا گروہ پہلے اسی طریقے کا استعمال کرکے منشیات بھی اسپین اسمگل کرتا تھا، غیر قانونی طریقے سے اسپین میں داخل ہونے تارکین وطن فرانس یا اٹلی منتقل ہوجاتے ہیں۔

خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا، سنہ 2015 میں دس لاکھ تارکین وطن یورپی یونین میں داخل ہوئے۔

سنہ 2015 میں تارکین وطن بڑی تعداد میں ترکی سے یونان اور بلقان کے ذریعے یورپ میں داخل ہوکر مغرب اور شمال میں واقع ممالک میں منتقل ہوگئے تھے۔ ان مہاجرین کی زیادہ تر آبادی جرمنی میں مقیم ہے۔

یورپی یونین نے سنہ 2016 میں ترکی کو ایک معاہدے کے ذریعے پابند کیا تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والے افراد کو ترکی کی سرحد استعمال نہ کرنے دے۔ جس کے بعد بحرہ ایجیئن کو عبور کرکے یورپ جانے والوں کی تعداد میں واضح کمی واقع ہوئی تھی۔

دوسری جانب بحیرء روم کو عبور کرکے اٹلی پہنچے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، یورپ پہنچنے والے مہاجرین میں شمالی افریقہ خصوصاً لیبیا کے شہریوں کی زیادہ تعداد ہے۔

تارکین وطن کی بحیرء روم کے ذریعے یورپ آمد کے سلسلے کو روکنے کے لیے یورپی یونین اور لیبیا کے درمیان بھی معاہدہ طے ہوا ہے جس کے بعد غیر قانونی طریقوں سے یورپی ممالک میں داخل ہونے والے افراد نے نئے راستے تلاش کرنا شروع کردیئے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں