The news is by your side.

Advertisement

اسپین کے ساحلوں پر لگنے والے سینسر سے کرونا کا کیا تعلق ہے؟

میڈریڈ: اسپین کی حکومت نے کرونا وائرس کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے لیے ساحل پر ایسے سینسر نصب کردیے جو سماجی فاصلے کی خلاف ورزی پر عوام کو خبردار کریں گے۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اسپین کی حکومت نے تمام ساحلوں کو سیاحوں کے لیے دوبارہ سے کھولنے کا فیصلہ کیا البتہ وہاں پر سماجی فاصلے سمیت کرونا کی دیگر احتیاطی تدابیر پر عوام کو عمل کرنا لازمی ہوگا۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق سینسر کی تنصیب کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ غیر ملکی سیاح سورج دیکھ کر تمام حفاظتی تدابیر کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور وہ کرونا کو وقتی طور پر بھول بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے وائرس دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیاحتی شہر فیونن گیروالا کے مشہور ساحل پر بھی آرٹی فیشل اینٹیلی جنس کی تنصیب کی گئی ہے تاکہ وہاں خلاف ورزی کرنے والوں کو بار بار خبردار کیا جاسکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سینسر کھمبوں میں نصب کیے گئے جن کی ماہرین مانیٹرنگ کرتے رہیں گے اور یہ ساحل پر آنے والوں کے فون سے جڑے ہوں گے، جیسے ہی کوئی شخص تین فٹ فاصلے کی خلاف ورزی کرے گا اُسے متنبہ کیا جائے گا اور بات نہ ماننے کی صورت میں وہاں موجود اہلکار مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی کریں گے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاحوں اور عوام کی حفاظت ہے کیونکہ ہر سال گرمیوں میں عوام بڑی تعداد میں ساحل کا رخ کرتے ہیں اور انہیں روکا نہیں جاسکتا۔

ساحلوں کے امور دیکھنے والے ادارے کے سربراہ فرانسینا آرمینگول کا کہنا تھا کہ ’ہم چھٹیوں کے دنوں میں بھی سیاحوں کے ساحل پر آنے پر پابندی نہیں لگا سکتے، ہاں یہ ضروری ہے کہ اُن سے احتیاطی تدابیر پر عمل کروایا جائے، جلد ہی ساحل کی رونقیں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بحال ہوجائیں گی‘۔

واضح رہے کہ اسپین میں اب تک کرونا کے 2 لاکھ 28 ہزار 691 کیسز رپورٹ ہوئے جن مٰں سے 27 ہزار 104 اموات بھی ہوئیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں