The news is by your side.

Advertisement

اسپیکر بلوچستان کا وزیر اعلیٰ کے خلاف اعلان بغاوت، صوبائی کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ

کوئٹہ: اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا ہے، دوسری طرف صوبائی کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبد القدوس بزنجو نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے گی، وزیر اعلیٰ کے لیے پارٹی داؤ پر نہیں لگا سکتے، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کو ایک بنکر بنا دیا گیا ہے، ایک بندے کی وجہ سے پوری پارٹی کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔

دوسری طرف ذرایع نے کہا ہے کہ بلوچستان کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2 اراکین اسمبلی صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے، ان نامزد اراکین میں سردار یارمحمد رند اور مٹھا خان کاکڑ شامل ہیں، گورنر بلوچستان صوبائی وزرا سے حلف لیں گے۔

ادھر بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بزنجو کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس تحریک عدم اعتما کا ذکر کیا گیا ہے وہ نہ تحریک ہے، نہ عدم نہ اعتماد، بزنجو کی بیماری کا جواب ان کے ڈاکٹر دے سکتے ہیں، ایک شخص کے ذاتی گلے شکوے ہیں، وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد اسپیکر کی محض خواہش ہے، ہمارے دور میں جتنے کام ہوئے ہیں وہ 10 سال میں نہیں ہوئے، ہم حکومت کا موازنہ پچھلے ادوار کی بہ جائے دوسرے صوبوں سے کر رہے ہیں۔

گزشتہ رات اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں ہمارا مقصد تھا کہ عوامی پارٹی اور عوامی حکومت بنائیں گے، کوشش تھی کہ حکومت بنانے کا جو موقع ملا ہے اس میں کام یاب ہوں، لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان پرفارم نہیں کر رہے، اگر آپ وزیر اعلیٰ ہاؤس کا دورہ کریں تو خود کہیں گے جام کمال کو نہیں رہنا چاہیے۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ کئی لوگ استعفے دے چکے ہیں، آہستہ آہستہ لوگ حکومت چھوڑ رہے ہیں، جام کمال باتیں اچھی کرتے ہیں لیکن ناکام ہو گئے ہیں۔ بزنجو نے ترجمان پر بھی تنقید کی، کہا وہ وزیر اعلیٰ کے ترجمان بنے ہوئے ہیں پارٹی کے نہیں۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان بڑا صوبہ ہے، مسائل بھی زیادہ ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں