The news is by your side.

Advertisement

’18 ویں ترمیم تاریخ پاکستان کا روشن باب ہے’

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے 18 ویں ترمیم کے قومی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم تاریخ پاکستان کا روشن باب ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ 19 اپریل 2010 کو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دیے دورآمریت کی تقریبا تمام ترامیم اور بدنام زمانہ 58(2)بی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔

اسپیکر نے کہا کہ پختونوں کے دیرینہ مطالبہ پر صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھا گیا اور تمام صوبوں کو مالیاتی خودمختاری دی گئی۔

راجا پرویز اشرف نے یہ بھی کہا کہ یادگار ترمیم کےنتیجے میں مارشل لا کا راستہ آئینی طور پر بند کر دیا گیا اور ایمرجنسی لگانے کا اختیار صدر اور گورنر سے لیکر اسمبلی کو دیا گیا۔

واضح رہے کہ 18 ویں ترمیم کے معاملے پر پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت میں بڑی بحث ہوتی رہی ہے۔

اس وقت کے وفاقی وزرا کا موقف تھا کہ اٹھارویں ترمیم کی آڑ میں سندھ میں لوٹ مار کی جارہی ہے اور اٹھارویں ترمیم کوئی مذہبی دستاویز نہیں انسانوں نے بنایا تھا اس میں ترمیم لائیں گے۔

دوسری جانب اس وقت کی اپوزیشن اس کے تحفظ کیلیے سینہ سپر ہونے کے بیانات دیتی رہی۔

ایک جانب آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلیے ان پر کیسز بنائے جارہے ہیں اور اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل نہ ہونے پر صوبوں میں اشتعال پایا جاتا ہے

مزید پڑھیں: اٹھارویں ترمیم پر حکومتی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، بلاول بھٹو

دوسری جانب پی پی چیئرمین اور آصف زرداری کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے کئی مواقع پر واشگاف الفاظ میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کرنے دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں