لاہور (4 نومبر 2025): اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ جیل میں قید عمران خان کے جرائم کو جانچنا چاہیے مگر کسی کو قید میں رکھنے کے حق میں نہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کسی کو قید میں رکھنے کے حق میں نہیں، لیکن جن جرائم پر بانی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں، اسے جانچنا چاہیے۔ کسی کی خواہش ہے کہ میرا گھر جلا دے تو کیا اس کو بھی آزادی ملنی چاہیے۔ اگر تاریخ کے ورثے کو جلا کر رکھ دیں تو کیا اس کو آزادی ملنی چاہیے۔
اسپیکر نے کہا کہ بلدیاتی حکومت ایسا موضوع ہے جس پر صوبوں نے قانون سازی کرنی ہے۔ بلدیاتی حکومت کا وقت برقرار رہنا چاہیے۔ پنجاب اسمبلی سے بھیجی گئی قرارداد پر تمام جماعتوں نے موقف اختیار کیا کہ بلدیاتی حکومت کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام ہے اور وہاں ہر جماعت اپنا نظریہ رکھتی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت کی طرح مقامی حکومتوں کو بھی آئینی تحفظ ملنا چاہیے۔ مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ سے متعلق صدر، وزیراعظم تک پیغام پہنچاؤں گا۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ محسوس ہو رہا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم پر کام شروع ہو چکا ہے۔ کیا صوبوں کو این ایف سی فنڈز دینے کے بعد وفاق کے پاس اتنی گنجائش ہے کہ اپنا کام چلا سکے۔ وفاق نے جو قرض کی ادائیگیاں کرنی ہیں، اس میں صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈمپر مافیا کی خبریں ٹی وی پر دیکھ رہا ہوں حکومت کو بےہنگم ٹریفک کو لگام ڈالنا چاہیے۔
پاکستان میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی


