The news is by your side.

Advertisement

جے آئی ٹی نے زرداری سسٹم کو بے نقاب کر دیا ہے: شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری دیکھنے والا حیران ہو جاتا ہے، منی لانڈرنگ سمجھنے کے لیے صدیوں تک آصف زرداری کی داستان کا ذکر رہے گا۔

شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری ہوش اڑا دینے والی ہے، زرداری کی منی لانڈرنگ داستان کو امریکی ڈیپارٹمنٹ نے ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا۔

زرداری کی منی لانڈرنگ داستان کو امریکی ڈیپارٹمنٹ نے ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا۔

شہزاد اکبر

انھوں نے کہا ’اندرونِ سندھ، کراچی کے لوگ زرداری سسٹم سے واقف ہیں، جے آئی ٹی نے سندھ میں زرداری سسٹم کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پیسے ایک سے دوسرے اور پھر تیسرے اکاؤنٹ میں ڈالے جاتے رہے، منی لانڈرنگ کیس دیکھا جائے تو اس کے سامنے نواز شریف کو بے چارہ سمجھتا ہوں، غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر بینک اکاؤنٹس کے بجائے بینک ہی بنا لیا گیا۔

معاون خصوصی برائے احتساب نے مزید کہا ’سندھ میں منی لانڈرنگ کے لیے بینک بنایا گیا، جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 9 ارب روپے بینک کی ایکوٹی جاتی تھی، جعلی اکاؤنٹس کو اومنی گروپ چلاتا تھا، 2015 میں نواز شریف کی حکومت نے گٹھ جوڑ کے ذریعے رپورٹ دبائے رکھی۔‘


یہ بھی پڑھیں:  میگا منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کو نوٹس جاری، اومنی گروپ کی جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم


معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو داد دینے کی ضرورت ہے، جون 2018 میں از خود نوٹس لیا گیا، جے آئی ٹی ستمبر میں تشکیل دی گئی، جے آئی ٹی رپورٹ 900 صفحات پر مشتمل ہے، صرف 20 صفحات پڑھ کر دماغ گھوم جاتا ہے۔

بلاول بھٹو کے لیے 27 بکروں کی قربانی بھی جعلی اکاؤنٹ سے کی گئی۔

شہزاد اکبر

بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ’24500 مشتبہ کیش ٹرانزیکشن رپورٹ ہوئی ہیں، اومنی گروپ کے 32 پرائمری اکاؤنٹس 100 سے زائد جعلی اکاؤنٹس دیکھتے تھے، رپورٹ کے مطابق ٹیکس کے ذریعے آنے والا پیسا جائز پیسے میں ملا کر چھپایا جاتا تھا، جے آئی ٹی نے 924 افراد کے 11500 اکاؤنٹس کی جانچ کی جن کا کیس سے تعلق ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’آصف زرداری 2007 تک پاک لین کی ایک کمپنی کے خود ڈائریکٹر تھے، ان کے ایک پلاٹ کو راتوں رات کمرشلائز کیا گیا اور قیمت بڑھائی گئی، نوڈیرو اور نواب شاہ میں زرعی اراضی خریدی گئی۔‘

معاونِ خصوصی نے کہا ’ گلستان جوہر کی 7 ایکڑ زمین کو 46 ملین میں فروخت کر کے رقم جعلی اکاؤنٹس میں ڈالی گئی، سندھ میں تمام سبسڈیز کی رقم جعلی اکاؤنٹس میں جاتی تھی، 60.13 ارب کی سبسڈی بھی ان جعلی اکاؤنٹس میں گئی، منی لانڈرنگ کے لیے سندھ حکومت کا استعمال کیا گیا۔‘

شہزاد اکبر نے مزید بتایا ’رپورٹ میں ماڈلز کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے منی لانڈرنگ کی نشان دہی کی گئی ہے، اومنی گروپ نے جعلی کمپنیوں کے نام پر قرضے لیے، اومنی گروپ کو اثاثوں کی زائد قیمتیں ظاہر کر کے 54 ارب روپے کا قرضہ دیا گیا، جب کہ اثاثوں کی قیمتیں 15 ارب سے ز ائد نہیں تھیں، قرضہ سندھ بینک اور نیشنل بینک سے دلایا گیا۔

گلستان جوہر کی 7 ایکڑ زمین کو 46 ملین میں فروخت کر کے رقم جعلی اکاؤنٹس میں ڈالی گئی، سندھ میں تمام سبسڈیز کی رقم جعلی اکاؤنٹس میں جاتی تھی۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے بتا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس کے مرکزی کردار آصف زرداری ہیں، فریال تالپور کے ڈیفنس کے گھر اور آصف زرداری کے نواب شاہ کے گھر کے لیے سیمنٹ جعلی اکاؤنٹس سے گیا۔ رپورٹ کے مطابق جلسوں کے لیے بلٹ پروف ٹرک کے پیسے بھی جعلی اکاؤنٹس سے گئے، اومنی کے طیارے پر زرداری اور اراکینِ سندھ حکومت نے 110 ٹرپ کیے۔

انھوں نے بتایا ’جے آئی ٹی نے 16 نیب ریفرنسز دائر کرنے کی درخواست کی ہے، فاروق ایچ نائیک کے نام پر بھی جعلی اکاؤنٹ نکل آیا تھا، رپورٹ میں مراد علی شاہ کے بہ طورِ وزیرِ خزانہ، وزیرِ اعلیٰ کردار کو سامنے لایا گیا ہے، کیس میں بیرون ملک ملزمان کے لنک کی جلد تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے، کیس میں ملزمان کا رویہ غیر سنجیدہ بتایا گیا ہے۔‘

بلاول ہاؤس اور جعلی اکاؤنٹس

رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ارب سے بلاول ہاؤس کے دونوں اطراف دس گھر خریدے گئے، بلاول ہاؤس میں عام طورپر کھانا منگوانے کے پیسے بھی جعلی اکاؤنٹس سے جاتے تھے، بلاول ہاؤس کراچی کے لیے 1.5 ملین کے یوٹیلٹی بلز جعلی اکاؤنٹس سے ادا کیے گئے۔

شہزاد اکبر نے بتایا ’بلاول بھٹو کے لیے 27 بکروں کی قربانی بھی جعلی اکاؤنٹ سے کی گئی، بلاول ہاؤس میں ایک لاکھ روپے سے زائد کا برتھ ڈے کیک کھایا گیا جس کے لیے جعلی اکاؤنٹس سے پیسا دیا گیا۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں