The news is by your side.

Advertisement

پرویز مشرف آئین شکنی کیس میں اب کوئی التوا نہیں ملے گا،عدالت کا دوٹوک مؤقف

اسلام آباد : پرویزمشرف آئین شکنی کیس تکمیل کے قریب آنے لگا، خصوصی عدالت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اب کوئی التوا نہیں ملے گا ، کسی فریق کے وکیل نے التوا مانگا تو اس پرجرمانہ ہوگا، کیس روزانہ کی بنیادپرچلے گا۔

تفصیلات کے مطابق خصوصی عدالت میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت جسٹس نذر اکبر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ۔

وکیل پرویز مشرف رضا بشیر نے کہاکہ گزشتہ سماعت کے بعد سارا ریکارڈ حاصل کیا ہے، میں نے دو درخواستیں جمع کرائی ہیں، مجھے 342کا بیان ریکارڈکرنے سے پہلے ملزم سے ملاقات کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

رضا بشیر کا کہنا تھا کہ عدالت وزارت کو ہدایت دے کہ ملزم سے ملاقات کے لئے انتظامات کرے، ملزم مشرف سے ملاقات کرکے بتا سکوں کہ ویڈیو لنک یا پھر سکائپ پر بیان ریکارڈ کر سکیں۔

جس پر جسٹس نذراکبر نے کہا کہ وکیل صاحب 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کی اسٹیج گزر چکی،آپ کو قانون کے مطابق مقرر کیا کہ عدالت کی معاونت کریں کہ ملزم پیش نہیں ہو رہا۔

جسٹس نذراکبر کا کہنا تھا کہ آپ نے آج کیوں درخواست دی ہے آپ کو تیاری کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا، جس پر وکیل رضا ربشیر نے کہا کہ میرا تعلق لاہور سے ہے اس لئے درخواست یہاں پہنچ کر دی ہے۔

جسٹس نذر اکبر نے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ کہیں سے بھی ہوں آپ کو التوا نہیں ملے گا، سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔

رضا ربشیرکا کہنا تھا کہ اگر آپ مجھے موقع نہیں دیں گے تو میں کیس سے الگ ہو جاﺅں گا، آپ نے پہلے بھی وکلا کو مواقعے دیئے مجھے بھی ایک موقع دیں۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ہمارے پاس آپ کی کوئی درخواست نہیں آئی، آتی بھی تو مسترد کرتے، آپ حتمی دلائل کا آغاز کریں۔

جسٹس شاہد کریم نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کا کنڈکٹ عدالت کے ساتھ بہتر نہیں، آپ دلائل نہیں دے رہے توہم آرڈرمیں لکھ دیں گے آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ عدالت موقع نہیں دے رہی، جس پر رضا بشیر نے کہا کورٹ میں درخواست دینے پر معافی مانگتا ہوں۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ کورٹ سے بطور وکیل معافی نہیں مانگتے اچھا رویہ رکھتے ہیں ، آئندہ سماعت پرحتمی دلائل ہوں گے، تیاری سے آئیں، کیس بھی روزانہ کی بنیاد پر چلےگا۔

بعد ازاں کیس کی مزید سماعت آٹھ اکتوبرتک ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں