The news is by your side.

Advertisement

فارن آفس میں کشمیر سیل قائم کرنے کا فیصلہ، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گی

خصوصی کشمیر جائزہ کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی اور عسکری محاذ پر اہم فیصلے

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی اور عسکری پہلو ہیں، سیاسی محاذ پر فارن آفس میں خصوصی کشمیر ڈیسک قائم کی جارہی ہے، عسکری محاذ پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت ایل او سی پر کشیدگی بڑھا رہا ہے ، خلاف ورزی پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی کے زیر صدارت خصوصی کشمیرجائزہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ دی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا کہ حالات کی مناسبت سے فارن آفس میں کشمیر سیل تشکیل دیا جارہا ہے، جس کے لیے ہم افراد قوت اور لائحہ عمل طے کریں گے، ساتھ ہی ساتھ دنیا کے اہم ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک بھی تشکیل دیا جائے گا ، جہاں کشمیر سے متعلق امور پر پاکستان کا فوکل پرسن بھی موجود رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلسل اپ ڈیٹ ہوتی ہوئی صورتحال ہے جس کا ایک سیاسی پہلو ہے اور ایک عسکری پہلو ہے، وزیراعظم نےکشمیرکی صورتحال پرنظررکھنےکےلیےکمیٹی تشکیل دی ہے ، آج اس کمیٹی کے پہلےاجلا س میں کافی طویل بات چیت ہوئی۔اجلاس کےشرکا نےاپنی رائے پیش کی، اور سب کی تجاویزآئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نےکمیٹی اجلاس میں اپوزیشن کوبھی نمائندگی دی،اجلاس میں شرکت پراپوزیشن اراکین کاشکرگزارہوں۔ پارلیمنٹ کے بعد آج بھی یکجہتی کاپیغام ساری دنیا میں گیاجس میں سب کاان پٹ آیاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرکوکل سب سےبڑےفورم پراٹھایاگیا،مسئلہ کشمیرپراقوام متحدہ کی11قراردادوں کی اہمیت کی تجدیدکی گئی۔بھارت کی بھرپورمخالفت کےباوجودپاکستان کی بڑی کامیابی ہے،کل ہم نےبڑامعرکہ سرکیا،آج کےاجلاس میں آگےبڑھنے پر گفتگوہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک لمبی لڑائی ہےجوہمیں ہرمحاذپرلڑنی ہے،یہ ایک ایونٹ نہیں پراسس ہےجس کیلئےہمیں تیاری کرناہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کےاجلاس میں ایک پلان ایکشن پرتبادلہ خیال کیاگیا،سفارتی،سیاسی اورقانونی حکمت عملی اورانسانی حقوق سےمتعلق بھی گفتگوہوئی۔

پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیراس وقت ایک جیل کی صورت میں ہے،مقبوضہ کشمیرمیں ہردروازےپرایک فوجی کھڑاہے۔بھارت جومقبوضہ کشمیرمیں جبرکررہاہےاس کا ردعمل بھی آئےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سےایل اوسی پرکشیدگی بڑھائی جارہی ہے اور بھارت کی جانب سے پلواماجیسےڈرامہ پھر کیا جاسکتاہے۔ پاک فوج ایل اوسی پربھرپورجواب دینےکے لیے تیارہیں،کسی بھی جارحیت کامنہ توڑجواب دےگی۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، پاکستان کی جانب سےایل اوسی پرپہل نہیں کی جارہی،یہ تاثرغلط ہےکہ پاکستان ایل اوسی پرکشیدگی بڑھارہاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان ایساکوئی بھی اقدام نہیں کریگاجس سےکشمیرکازکونقصان پہنچے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی وزیردفاع کابیان بھی سب نےدیکھاہے اور اس میں کوئی شک نہیں مقبوضہ کشمیر ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے۔دنیاکودیکھناچاہیےوہ اس مسئلےکوکیسےحل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اوربھارت ایٹمی طاقتیں ہیں دنیاکوتوجہ دینی چاہیے۔پاکستان نےبھارتی وزیردفاع کےبیان کوغیرذمہ دارانہ قراردیاہے۔ ذمہ دار ملک اس طرح کے بیان نہیں دیا کرتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں