site
stats
عالمی خبریں

عازمین حج کیلئے اسمارٹ چھتری تیار

ریاض: سعودی اور فلسطینی کمپنی نے مشترکہ طور پر ایک اسمارٹ چھتری تیار کی ہے، اس چھتری کو خصوصاً عازمین حج کیلئے بنایا گیا ہے۔

موسم گرما کے دوران حج کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس آنے والے مسلمانوں کو سخت دھوپ کی زحمت بھی اٹھانا پڑتی ہے مگر اس مشکل کا حل نکال لیا گیا ہے۔ عازمین حج کیلئے ایک اسمارٹ چھتری تیار کی گئی ہے، مجموعی طور پر اسمارٹ چھتری میں سات چیزیں موجود ہیں، جن میں شمسی سیل، پنکھا، جی پی ایس نظام، یوایس بی چارجر، اسٹک اور لائٹ شامل ہیں۔

چھتری میں شمسی توانائی سے بجلی بنانے والے سیل لگائے گئے ہیں، جو مناسب وقت میں موبائل فون کو چارج کرسکتے ہیں۔جب کہ چھتری میں لگا چھوٹا پنکھا سخت گرمی میں ہوا دیتا ہے۔

umbrella-1

اس اسمارٹ چھتری میں جی پی ایس نظام کے ذریعے حج پر جانے والے خواتین و حضرات ایک دوسرے کو ان کی موجودہ مقام کے لحاظ سے جان سکیں گے۔

اس میں لگی لائٹ جو اندھیرے میں روشنی کرتی ہے، جس سے رات کے وقت حاجی اس کی روشنی میں بہتر سفر کرسکیں گے۔

کمپنی کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں چھتری کے استعمال کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے، اس کی ویڈیو میں کمپنی کی نائب سربراہ منال دندس اسمارٹ چھتری کے خواص بتارہی ہیں۔

اسمارٹ چھتری کے بانی سعودی شہری کامل بدوی اور اس کی معاون فلسطینی دو شیزہ منال دندیس کا کہنا ہے کہ اسمارٹ چھتری کا تصور حجاج کرام کو گرمی میں ٹھنڈک کی سہولت کی فراہمی کے نظریے سے آیا، بدوی نے کہا کہ وہ بچپین ہی سے سوچتے آرہے تھے کہ حجاج کرام کو سخت گرمی سے بچانے کے لیے کیا کرنا چاہیے آخر کار انہیں ایک ایسی چھتری کی تیاری کرنے کا سوچا، جو استعمال کرنے والے کو سایہ ہی نہیں بلکہ ٹھنڈک بھی فراہم کرے۔

بدوی کا کہنا ہے کہ عموما لوگ یورپی ملکوں، گرم خطوں اور حج کے مواقع پر گرمی سے بچنے کے لیے چھتری کا سہارا لیتے ہیں مگر روایتی چھتریاں سایہ تو فراہم کرتی ہیں مگر وہ گرمی کی شدت کم کرنے اور ٹھنڈک کا احساس پیدا کرنے میں زیادہ کارگر نہیں ہوتیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top