لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بیرون ملک سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا تقرر -
The news is by your side.

Advertisement

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بیرون ملک سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا تقرر

پشاور: بیرون ملک تربیت حاصل کرنے کے بعد وہیں کام کرنے والے 20 ماہرین طب نے پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر اپنی خدمات فراہم کردیں۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں گزشتہ روز 43 ماہرین طب کا تقرر کیا گیا جن میں سے 20 بیرون ملک سے اپنی ملازمتیں چھوڑ کر آنے والے ڈاکٹرز شامل ہیں۔

ان ڈاکٹرز نے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں دی جانے والی بہترین تنخواہوں، مراعات، سہولیات اور بہترین ماحول کو دیکھتے ہوئے اپنی غیر ملکی ملازمتیں چھوڑ کر یہاں ملازمت شروع کردی ہے۔

ڈاکٹر حامد شہزاد بھی ان ہی میں سے ایک ہیں جو گزشتہ 15 سال سے برطانیہ کے کوئین الزبتھ اسپتال برمنگھم میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اب لیڈی ریڈنگ اسپتال میں شعبہ ایمرجنسی و حادثات میں بطور ڈائریکٹر ان کا تقرر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں اور خدمات اپنے ملک کے لوگوں کے لیے صرف کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ بہترین وقت کا انتظار کر رہے تھے، ’وہ وقت اب آچکا ہے کیونکہ اب حالات پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہوگئے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک لاعلاج مریض پاکستان میں صحت یاب

ڈاکٹر حامد شعبہ حادثات میں ان افراد کے علاج میں مہارت رکھتے ہیں جو بم دھماکوں کا شکار ہوئے ہوں اور اب وہ اس شعبے میں واحد ڈاکٹر ہیں جو بیرون ملک سے تربیت یافتہ ہیں۔

اسپتال میں تعینات کیے جانے والے دیگر ڈاکٹرز برطانیہ سمیت امریکا، آئرلینڈ، دبئی، سنگاپور، ملائیشیا اور برونائی دارالسلام سے اپنی ملازمتیں چھوڑ کر آئے ہیں۔ ان سب کا تقرر اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر کیا گیا ہے۔

ان ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے یہاں کام کرنے کی اصل وجہ شہر میں امن و امان کے حالات میں بہتری آنا ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ڈین پروفیسر ارشد جاوید کا کہنا ہے کہ ان ڈاکٹرز کا یہاں پر کام کرنا نہ صرف اسپتال بلکہ پورے شہر میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں اسسٹنٹ پروفیسر کو ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر کو 3 لاکھ جبکہ پروفیسر کو ساڑھے 3 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے۔

ان کے مطابق اسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر 3 ہزار کے قریب مریض آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر مریض اسپیشلسٹ کو دکھائے جانے ضروری ہوتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں