The news is by your side.

Advertisement

کیا ہمارے گھر میں موجود یہ معمولی سی شے کرونا وائرس سے بچا سکتی ہے؟

کرونا وائرس کو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے اور سائنسدان اس سے نجات کے لیے ویکسینز اور دواؤں کی تیاری میں مصروف ہیں، دنیا بھر میں ماہرین قدرتی اجزا اور پہلے سے موجود دواؤں سے اس کا علاج کرتے آرہے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر روب تھامس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر افراد جن کی حالت تشویشناک ہوگئی، زیادہ تر ایسے تھے جو پہلے سے مختلف بیماریوں کا شکار تھے جیسے امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ 2، اور موٹاپا۔

ڈکٹر روب اس سے قبل مختلف کینسرز کی روک تھام میں ڈائٹ کے کردار پر تحقیق کر چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ طے شدہ ہے کہ ہم اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کر سکتے ہیں جس سے ہم اس وائرس سے لڑ سکتے ہیں۔

اس سے قبل ایک تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ وٹامن ڈی اس وائرس سے لڑنے میں معاون ثابت ہورہا ہے، برطانیہ میں ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ افراد جو دھوپ کی روشنی میں کم وقت گزارتے تھے اور ان میں وٹامن ڈی کی سطح معمول سے کم تھی، وہ کرونا وائرس کا شکار ہو کر وینٹی لیٹرز پر جا پہنچے۔

اب تحقیق کی جارہی ہے کہ آیا اس وائرس سے لڑنے کے لیے فائٹو کیمیکلز بھی اسی طرح معاون ثابت ہوسکتے ہیں؟ فائٹو کیمیکلز پھلوں، سبزیوں، جڑی بوٹیوں اور مختلف مصالحوں بشمول ہلدی میں پائے جاتے ہیں۔

سنہ 2003 میں جب سارس وائرس پھیلا تھا تب ان فائٹو کیمیکلز کو جانوروں پر آزمایا گیا تھا، ماہرین نے دیکھا کہ فائٹو کیمیکلز کی وجہ سے سارس وائرس کی کارکردگی اور صلاحیت میں کمی واقع ہوئی۔

اب ان فائٹو کیمیکلز کو کرونا وائرس کے مریضوں کو بطور دوا دینے کا تجربہ کیا جارہا ہے۔

تجربے میں شامل مریض ایک ماہ تک اس کا سپلیمنٹ کھائیں گے اور انہیں کوویڈ 19 کی علامات ختم ہونے تک مانیٹر کیا جائے گا۔ وہ افراد جن میں طویل عرصے تک کوویڈ 19 کی علامات رہیں گی وہ اسے 3 ماہ تک استعمال کریں گے۔

پروفیسر روب کے مطابق فائٹو کیمیکلز سے تیار کردہ سپلیمنٹس محفوظ ہیں اور جلد تیار ہوسکتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کیا ان سپلیمنٹس کا پیشگی استعمال کرونا وائرس سے حفاظت کرسکتا ہے یا نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں