The news is by your side.

Advertisement

ایسے عجیب و غریب کھیل جو ماضی میں اولمپکس کا حصہ رہے

اولمپکس کا آغاز سال 1965سے ہوا لیکن اس زمانے میں کرکٹ اور ہاکی اس کا حصہ نہیں تھے لیکن اس کے علاوہ جو کھیل کھیلے جاتے تھے وہ بہت بور اور غیر دلچسپ ہوا کرتے تھے۔

ہمارا آج کا موضوع اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت تو نہیں بلکہ ایسے عجیب و غریب کھیلوں کا تذکرہ ہے جو ماضی میں اولمپکس کا حصہ رہ چکے ہیں بلکہ کئی کھیل تو ایسے ہیں جو اپنے تمام تر بے ڈھنگے پن کے باوجود دہائیوں تک اولمپکس کا حصہ رہے۔ آئیے آپ کو ایسے ہی چند کھیلوں کے بارے میں بتاتے ہیں:

لمبا غوطہ

‏1904ء کے گرمائی اولمپکس امریکا کے شہر سینٹ لوئس میں ہوئے تھے اور یہاں ایک مقابلہ تھا لمبے غوطے کا یعنی Plunge For Distance اس کھیل میں شریک کھلاڑی کو پانی میں غوطہ لگانا ہوتا تھا اور 60 سیکنڈز میں بغیر جسم ہلائے جو زیادہ فاصلہ طے کرے گا، فاتح قرار پائے گا۔

یعنی بنا ہاتھ پیر ہلائے بھی آپ اولمپک میڈل جیت سکتے تھے۔ بہرحال، یہ واحد موقع تھا کہ اس عجیب کھیل کو اولمپکس میں شامل کیا گیا، البتہ تین امریکی تیراک ‘مفت کے تمغے’ جیتنے میں ضرور کامیاب ہوئے۔

آرٹ

انیس سو بارہ  سے 1948ء کے دوران ہر اولمپکس میں محض کھیلوں کے ایونٹس ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ پانچ مختلف زمروں میں مختلف آرٹس یعنی فنون کے جوہر دکھانے کا بھی مقابلہ ہوتا تھا، جن میں تعمیرات، ادب، موسیقی، مصوری اور مجسمہ سازی شامل تھے۔ شرط صرف اتنی تھی کہ ان تمام شعبوں میں حصہ لینے والوں کا موضوع کھیل ہو مثلاً تعمیرات کا تمغا جیتنے کے لیے کھیلوں کے مقامات کی تعمیر ضروری تھی۔

اس میں صرف امیچر یعنی شوقین فن کاروں کو شرکت کی اجازت تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ “مقابلے” پروفیشنل آرٹ کی دنیا میں کوئی خاص تہلکہ نہیں مچا پائے۔ پھر لوگوں کی توجہ بھی اولمپکس کے دوران زیادہ تر کھیلوں پر ہی ہوتی تھی۔

اس لیے 1948ء کے بعد اس کا خاتمہ کر دیا گیا البتہ اس موقع پر شہر میں آرٹ نمائش ضرور ہوتی ہے۔ اتنے عرصے کے دوران اس “کھیل” میں 151 تمغے جیتے گئے جو آج کسی ملک کے تمغوں میں شمار نہیں ہوتے اور اولمپک ریکارڈز سے بھی نکالے جا چکے ہیں۔

گھوڑے پر کرتب

‏1920ء کے اولمپکس میں بیلجیئم کے شہر اینٹوَرپ میں ہوئے تھے، جس میں جمناسٹکس میں ایک عجیب ہی کھیل شامل کیا گیا تھا جس میں گھوڑے کے اوپر جسمانی کرتب دکھانے ہوتے تھے۔

اس مقابلے میں صرف تین ملکوں نے حصہ لیا، میزبان نے سونے اور کانسی تمغے کے جیتے اور چاندی کا تمغہ فرانس کو ملا۔ 11 ستمبر 1920ء پہلا اور آخری دن تھا جب یہ کھیل اولمپکس میں کھیلا گیا۔

کروکوئے
‏1900ء کے پیرس اولمپکس میں کروکوئے  بھی کھیلا گیا۔ ارے نہیں، نہیں، یہ ہر گز کرکٹ سے ملتا جلتا کھیل نہیں ہے بلکہ اسے گالف کی ایک بگڑی بلکہ بچکانہ شکل کہا جا سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مقابلوں میں صرف فرانس نے حصہ لیا۔ یہ کھیل نہ تو مقبول تھا اور نہ ہی اسے کھیلنے کے لیے کوئی ایسی مہارت درکار ہوتی ہے کہ جس پر کسی کو سونے کا تمغا پہنایا جائے۔ مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ اس کے مقابلے دیکھنے کے لیے پورے ایونٹ میں صرف ایک تماشائی آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دوبارہ کبھی نہیں کھیلا گیا۔

موٹر بوٹنگ
جی ہاں! موٹر بوٹنگ بھی ایک سال اولمپکس میں بطور کھیل شامل رہی ہے، یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکری اور “تمغا” چوکھا آئے۔ 1908ء کے لندن اولمپکس میں طے شدہ راستے کے پانچ چکر لگانے کے لیے موٹر سے چلنے والی کشتیوں کا مقابلہ ہوا۔

ان کشتیوں کی اوسط رفتار 20 میل فی گھنٹہ تھی اور یہ ساحل سے اتنی دُور تھیں کہ وہاں کھڑے تماشائیوں کو بمشکل ہی کوئی “مقابلہ” ہوتا نظر آیا۔ برطانیہ نے تین میں سے دو ایونٹس میں کامیابی حاصل کی جبکہ سونے کا ایک تمغا فرانس نے جیتا۔ بس اس کے بعد اسے دوبارہ کبھی اولمپکس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

رسی چڑھنا
یہ ذرا دلچسپ کھیل لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ 1896ء میں ایتھنز میں ہونے والے پہلے جدید اولمپکس کے بعد اسے 1904ء، 1906ء، 1942ء اور 1932ء کے اولمپکس میں بھی کھیلا گیا۔ اس میں شریک کھلاڑی کو سب سے کم وقت میں محض اپنے ہاتھوں کے ذریعے رسی چڑھنا ہوتی تھی۔

ڈبل سائیکلنگ
ٹینڈم سائیکلنگ 1908ء کے اولمپکس میں اولمپک کھیل کی حیثیت سے شامل ہوئی۔ پھر 1920ء سے 1972ء تک تمام اولمپکس کا حصہ رہی۔ اس کھیل میں دو افراد کو ایک سائیکل دو ہزار میٹرز تک چلانا ہوتی تھی۔

جب یہ کھیل پہلی بار اولمپکس میں کھیلا گیا تھا تو فرانس نے سونے کا تمغہ جیتا تھا اور باقی دونوں برطانیہ کے ہاتھ آئے۔ اب یہ کھیل اولمپکس کا حصہ تو نہیں البتہ پیرالمپکس یعنی معذوروں کے اولمپکس میں ضرور کھیلا جاتا ہے۔

اسٹینڈنگ لانگ جمپ اور ہائی جمپ
اسٹینڈنگ لانگ جمپ اور اسٹینڈنگ ہائی جمپ کے مقابلے 1900ء سے 1912ء کے دوران چاروں اولمپکس کا حصہ رہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ آج کھیلے جانے والے لانگ جمپ اور ہائی جمپ کے مقابلے میں اس میں کھلاڑیوں کو بغیر دوڑے چھلانگ لگانا ہوتی تھی۔کھلاڑیوں کو کھڑے کھڑے اپنے بازو اور کہنیاں گھمانے کی اجازت ہوتی تھی تاکہ وہ لمبی چھلانگ لگا سکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں