The news is by your side.

Advertisement

اسکوئڈ گیم: کیا مثبت پیغام کو منفی انداز میں پیش کرنا ضروری تھا ؟

سید سبط حسان رضوی  کے قلم سے ‘اسکوئڈ گیم’ پر ایک تحریر

ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک کورین ڈرامے ‘اسکوئڈ گیم’ کے چرچے ہیں۔ ریویوز بتارہے ہیں کہ شائقین اسے بے حد پسند بھی کررہے ہیں۔ لیکن کیا حقیقتاً یہ اتنا۔دلچسپ ہے ؟

تو جواب ہے ہاں۔

لیکن ٹھہریئے۔ سراسر تشدد پر مبنی اس سیریز کو کمزور دل افراد دیکھنے سے گریز کریں۔

فلموں ، ڈراموں اور کہانیوں کا معاشروں پر بہت تیزی سے اثر ہوتا ہے۔ خاصکر نوجوان نسل تیزی سے اس کا اثر خود پر لے لیتی ہے۔ اس کی ایک مثال عید کے مواقعوں پر کھلونوں میں نقلی پستول کی تیزی سے فروخت ہے۔ یہاں تک کے حکومت کو اس پر پابندی عائد کرنا پڑتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ کئی نوجوان ڈراموں سے متاثر ہوکر سگریٹ نوشی کو عام سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔اس جیسی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں۔

اس سیریز کے رائٹر اور ڈائریکٹر وانگ ڈانگ ہیاک ہیں۔ جو اس سے قبل ‘مائی فادر’ ، ‘سائلنسڈ’، ‘مس گرینی’ ، ‘دی فورٹریس’ جیسی مشہور فلمیں لکھ چکے ہیں۔ سیریز 17 ستمبر 2021 کو دنیا بھر میں نیٹفلکس کے پلٹ فارم سے ریلیز کی گئی ہے۔ اس سیریز میں ساؤتھ کوریا میں مقیم ایک اداکار انوپم ترپاٹھی کو پاکستانی کے روپ میں متعارف کرایا گیا ہے۔

جی ہاں پاکستانی۔۔ یہ بھی قابل غور اور دلچسپ بات ہے۔ کیونکہ اس شخص کو بعد میں ایک کورین انتہائی آسانی سے بے وقوف بنا دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کریکٹر کے ذریعے کچھ اور دکھانا منسوب ہو۔

بہر حال فلم کی کہانی پر نظر ڈالنے سے قبل آپکو بتاتا چلوں کہ ‘اِسکُوئڈ’ واقعی ایک کورین گیم ہے۔ جو ‘اوجنجو’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بچے اس گیم میں اوفنسیو اور ڈیفنسیو دو ٹیموں میں بانٹے جاتے ہیں۔
میدان پر ایک دائرہ ، ایک ٹرائی اینگل اور ایک اسکوائر بنا کر یہ گیم کھیلا جاتا ہے۔

کہانی کی پہلی ہی قسط میں اس گیم کو سمجھایا بھی گیا ہے۔ اور ان تین اشکال سے مزین وزٹنگ کارڈز باربار دکھائے بھی گئے ہیں۔

اس سیریز میں کل 9 اقساط ہیں۔ کہانی میں یوں توں چند کریکٹرز اہم ہیں۔ لیکن اسکوئڈ گیم چار سو چھپن پلیئرز کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔
کہانی آغاز سے ہی دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کرلیتی ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے وہ شہری جو کہیں ناکہیں اپنی زندگیوں میں قرضوں اور مایوسی کے بوجھ میں دبے ہیں۔ ان کو لالچ دیکر اس گیم کی جانب راغب کیا جاتا ہے۔ ‘داکچی’ نامی ایک گیم کھیل کر سب کو ایک مخصوص انعامی رقم دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی بڑی رقم کے حصول کے لیے انکو بڑا گیم کھیلنا ہوگا۔

چار سو چھپن کھلاڑیوں ان کی اجازت سے انتہائی راز داری سے ایک جزیرے پر منتقل کیا جاتا ہے۔ جہاں وہ کسی سے رابطہ نہیں کرسکتے۔

سکوئڈ گیم

 

پہلی قسط کا نام بھی ایک گیم ‘ریڈ لائٹ، گرین لائٹ’ کے نام سے منسوب ہے۔ گیم کے تین قوانین ہوتے ہیں۔ تیسرے رول کے مطابق اگر اکثریت راضی ہو تو گیم کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

میدان سجتا ہے۔ ریڈ لائٹ گرین لائٹ ، گڑیا کے پیچھے مڑنے پر جو بھی چلتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ گیم سے باہر۔۔

یہیں سے اصل مارا ماری شروع ہوتی ہے۔ گیم سے باہر یعنی موت۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے پرتشدد واقعات پر مبنی اس سیریز کا منفی پہلو سامنے آتا ہے۔
ایلیمنیشن یعنی گولی۔ باہر یعنی دنیا سے باہر۔ جزیرے میں منظم انداز میں بنائی گئی بھٹی میں ہار جانے والے کھلاڑیوں کی لاشوں کو جلادیا جاتا ہے۔

کتنی عجیب بات ہے کے ہم انسان جانتے بوجھتے اپنے ارد گرد ہونے والی سرگرمیوں سے نا واقفیت اور لاعلمی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بے بس اور لاچار لوگوں کو اس نہج پر پہنچا دیتے ہیں کہ وہ جان سے چلے جانے میں یا جان لے لینے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ ان کا ضمیر انکو جھنجھوڑتا ہے تو وہ اسے بھی چکما دے دیتے ہیں۔ کئی ان چیخوں اور شور سے گھبرا کر خودکشی کا راستہ اپنا لیتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ اور اس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ اس سیریز میں چھپا ہے۔ دوسری قسط میں گیم چھوڑ کر واپس گھروں کو لوٹنے والے پھر ان ہی حالات کا شکار ہوکر دوبارہ گیم کھیلنے کی حامی بھرتے ہیں اور دوسرا گیم شروع ہوتا ہے۔ یہاں ہنی کومب کے اندر بنی اشکال کو صحیح سلامت باہر نکالنا ہوتا ہے۔ جو جیتا وہ پار۔ جو ہارا اس کی موت۔

کہنے کو تو گیم کو بڑا فیئر رکھا گیا ہے۔ لیکن خود پلیئر نمبر ون اس بات کی نفی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا اندازہ آپکو سیریز کی آخری قسط دیکھنے کے بعد ہوگا۔ ساتویں قسط میں ‘وی آئی پیز’ کی آمد ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں کو انسان نہیں سمجھتے بلکہ گھوڑے سمجھ کر پیسہ لگاتے ہیں۔ لوگ مرتے رہتے ہیں اور گلک میں گیم سے باہر ہونے والے ہر کھلاڑی کے نام پر رقم گرتی رہتی ہے۔ کورین کرنسی کے حساب سے جیتنے والے کو پینتالیس اعشاریہ چھ بلین وان کا گرینڈ پرائز ملنا ہے۔

اختتامی گیم کا نام ‘اسکوئڈ گیم’ ہے۔

جس میں گی ہیون کا مقابلہ سانگ وو سے ہوتا ہے۔ گی ہیون کو دل کا صاف دکھایا گیا ہے۔ لیکن جو پیسہ وہ اس گیم سے جیتنے کے بعد واپس لوٹتا ہے۔ وہ اس کے کسی کام کا نہیں رہتا۔ اس کا دل ملامت کرتا ہے۔ اس کی بیمار ماں بھی دنیا سے کوچ کرجاتی ہے۔

مختصر یہ کہ جو کچھ داؤ پہ لگا۔ جتنے لوگ جان سے گئے۔ سب لاحاصل۔ سیریز کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ زیادہ کی چاہ میں جو پاس ہو وہ بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ سیریز کا ایک ڈائیلاگ بہت مشہور ہے۔ جس کے مطابق ” امیر اور غریب انسانوں کے پاس ایک چیز مشترک ہے ، وہ ہے ‘خوشی’ ۔ دونوں اسی کی تلاش اور تگ و دو میں لگے رہتے ہیں”

کہا جاتا ہے کہ وانگ ڈانگ ہیوک نے یہ سیریز سن 2008 میں تحریر کی تھی جس کی پروڈکشن سے کئی اداروں نے انکار کردیا تھا۔ اب حال یہ ہے کہ نیٹفلکس پر اس کی رونمائی کے بعد شائقین اس کے اگلے سیزن کے منتظر ہیں۔

پاکستان میں اس سیریز کو لیکر مختلف تبصرے بھی ہو رہے ہیں۔ کسی نے وزیر اعظم عمران خان کی تصویر کے ساتھ غریبوں کے لیے نئی اسکیم لانے کا جملہ لکھ کر ساتھ اسکوئڈ گیم کارڈ کی تصویر لگائی ہوئی ہے۔ تو کسی نے کراچی کا پرانا دور یاد کرتے ہوئے بے امنی کی عکاسی کی جھلک پیش کی ہے۔

غرضیکہ لوگ مزاح میں ہی سہی مگر اس تشدد کو قبول کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کسی کا ماننا ہے کہ اچھا وقت گزارنے کے لیے بری سیریز نہیں ہے۔ تو کسی کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سیریز صرف ذہنوں کو پریشان کرنے کا ذریعہ ہیں۔

جس ملک میں یہ سیریز بنائی گئی ہے۔ وہاں شاید اس کی مقبولیت ٹھیک بھی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں حساس لوگ اس کا غلط مطلب نکال کر غلط سمت کا انتخاب نا کرلیں۔ اس بات کا ڈر ہے۔ نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے کی وجہ سے اس کا دائرہ کار پاکستان میں محدود ہے۔ لیکن مختلف زبانوں میں اس کی ڈبنگ اور چوری شدہ مواد کے تیزی سے پھیلاؤ کے قوی امکانات ہیں۔

سید سبط حسان رضوی صحافی ہیں۔ ایک نجی چینل میں رپورٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ صحت اور تعلیم سمیت سوشل ایشوز اور انٹرٹینمنٹ سے جڑے موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں