The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا: مسلم کش فسادات میں سابق صدراورپولیس کے شامل ہونے کا انکشاف

کولمبو : سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات میں سابق صدر مہندرا راجا پاکسے، اس کے حامی سياستدان اور پوليس اہلکاروں کے شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے وسطی شہر کينڈی ميں مسلمانوں کے سينکڑوں مکانات، مساجد اور دکانوں پر اسی مہينے منظم حملے کيے گئے تھے، یہ حملے تین دن تک جاری رہے۔

ان خونی فسادات میں تين افراد ہلاک اور بيس سے زائد زخمی ہوئے، فسادات کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے سری لنکا کے صدر ميتھريپالا سريسينا نے تحقيقات کا حکم ديا تھا۔ ایک خبر رساں ادارے کی ايک تحقيقاتی رپورٹ ميں عينی شاہدين، سرکاری اہلکاروں اور سی سی ٹی وی فوٹيج کا حوالہ ديتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سری لنکا ميں مسلمانوں پر اسی ماہ ہونے والے پرتشدد حملوں ميں سابق صدر مہندرا راجا پاکسے، ان کے حامی سياستدان اور پوليس اہلکار بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق فسادات کے متاثرين اور عينی شاہدين نے دعویٰ کيا ہے کہ خصوصی پيرا ملٹری پوليس يونٹ (ایس ٹی ایف) کے اہلکاروں نے مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں اور اماموں کو تشدد کا نشانہ بنايا۔

دوسری جانب ايک پريس کانفرنس ميں راجا پاکسے نے ايسے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ خلاف يہ الزامات سياسی نوعيت کے ہيں۔ انہوں نے کہا کولمبو حکومت نے اپنی خامياں چھپانے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے ليے فسادات کو طول دی۔

واضح رہے کہ سری لنکا ميں مسلم مخالف فسادات، خطے ميں بڑھتے ہوئے بدھ قوم پرست اور مسلم مخالف رجحانات کی ايک اور مثال ہيں، سری لنکا کی کل اکيس ملين کی آبادی ميں ستر فيصد بدھ مذہب کے ماننے والے ہيں جبکہ مسلمانوں کی شرح نو فيصد ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں