The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا کس طرح معاشی بحران کا شکار ہوا؟

سری لنکا کا معاشی بحران پرتشدد صورتحال میں تبدیل ہوگیا ہے، ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں گزشتہ روز آٹھ افراد ہلاک اور200 سے زائد زخمی ہوئے۔

ملک کے طاقتور وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا اور ان کے بھائی جو ملک کے صدر بھی ہیں اس مشکل مرحلے سے بچ نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

بجلی کی بندش، بنیادی اشیاء کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ناراض حکومت مخالف مظاہرین صدر گوتابایا راجا پاکسے سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معاشی بدحالی، پر تشدد واقعات اور سیاسی افراتفری نے 22 ملین کی آبادی پر مشتمل جزیرے کی عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جبکہ بھارت نے ضروری سامان کی ادائیگی میں مدد کے لیے سری لنکا کو دیے گئے اربوں ڈالر کے قرضوں میں توسیع کی منظوری دی ہے۔

Sri Lanka PM Rajapaksa

چین جس نے حالیہ برسوں میں انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اس سلسلے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین نے ایشیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

چین نے کہا ہے کہ سری لنکا کی عوام کے لیے  قرضے کی تنظیم نو کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جاسکے۔

یہ کیسے ہوا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی معاشی بدانتظامی نے سری لنکا کے عوامی مالی مفادات کو کمزور کیا، جس سے قومی اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ اور قابل تجارت سامان اور خدمات کی پیداوار ناکافی سطح تک رہ گئی۔

کورونا وائرس کی وبا اور روس یوکرین جنگ نے بھی ملکی حالات کو بدتر بنا دیا تھا لیکن سری لنکا میں ممکنہ معاشی بحران کے حوالے سے بہت عرصہ پہلے سے کیا متنبہ جا رہا تھا۔

سال2019میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد راجا پاکسے حکومت کی طرف سے ٹیکسوں میں کی گئی بھاری کٹوتیوں سے صورتحال مزید خراب ہوئی اور کچھ مہینوں بعد کوویڈ19 وبا نے حملہ کیا جس سے معاملات اور بھی گھمبیر ہوگئے۔

Sri Lanka

راجا پاکسے حکومت نے غلط اقدامات اٹھا کر سری لنکا کے بڑے ریونیو ذرائع کا خاتمہ کردیا، خاص طور پر منافع بخش سیاحت کی صنعت سے، اس کے علاوہ بیرون ملک کام کرنے والے سری لنکن شہریوں کی جانب سے بھی ترسیلات زر میں کمی آئی۔

اس حوالے سے ملک کی مالی درجہ بندی کرنے والی ایجنسیوں نے حکومتی اور بڑے غیرملکی قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر اور اس کی نااہلی کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔

سری لنکا کی کریڈٹ ریٹنگ کو سال 2020 سے بھی کم درجے لاکر کھڑا کردیا جس کے نتیجے میں بالآخر ملک کو بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے باہر کردیا گیا۔

معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لیے حکومت نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر پر بہت زیادہ انحصار کیا، جس سے دو سالوں میں ان میں 70 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

گزشتہ سال اپریل میں راجا پکشے نے کسی مناسب منصوبہ بندی کے بغیر کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے کیمیائی کھادوں کی درآمد پر اچانک پابندی کا اعلان کر دیا۔

اس اعلان نے کسانوں کو حیران اور چاول کی فصلوں کو تباہ کر دیا۔ جس کے بعد اجناس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے بھی عالمی مارکیٹ میں اجناس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس سے درآمد اور بہت مشکل ہوگئی۔

اس کے علاوہ غیرملکی زرمبادلہ کے دخائز میں تیزی سے کمی کی وجہ سے حکومت نے غیرملکی قرضوں کی ادائیگی بھی روک لی۔

حکومت نے کیا کیا؟

ملک میں تیزی سے بگڑتے ہوئے معاشی حالات کے باوجود راجا پاکسے حکومت نے ابتدائی طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کو معطل کردیا۔

کچھ مہینوں تک حزب اختلاف کے رہنماؤں اور کچھ مالیاتی ماہرین نے حکومت کو مؤثر اور مربوط پالیسی اختیار کرنے کی تاکید کی جس پر اس نے سیاحت کی واپسی اور ترسیلات زر کی بحالی کی امید کرتے ہوئے دیگر اقدامات کیے۔

بحران کا شکار سری لنکا کے وزیر اعظم نے بحران بڑھنے پر مظاہرین کو مذاکرات کی پیشکش کی | کاروبار اور معیشت کی خبریں۔اپنی بات ٹی ویعلاقائی اور انٹرنیشنل خبریں

بعد ازاں سری لنکن حکومت نے ہندوستان اور چین سمیت دیگر علاقائی سپر پاورز سے مدد طلب کی۔ اس حوالے سے بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے اس سال 3.5 بلین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی ہے۔

اس سے پہلے سال2022 میں، صدر راجا پاکسے نے چین سے کہا تھا کہ وہ بیجنگ کے واجب الادا 3.5 بلین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیوں کی مدت میں توسیع کرے۔ سری لنکا نے بالآخر آئی ایم ایف کے ساتھ بھی بات چیت کا آغاز کیا۔

مختلف ممالک کی حمایت کے باوجود ملک میں ایندھن کی قلت فلنگ اسٹیشنوں پر عوام کی لمبی قطاروں کے ساتھ ساتھ بلیک آؤٹ ہونے کا سبب بنی ہے اور اس کے علاوہ ادویات کی شدید قلت کا بھی سامنا رہا۔

اگے کیا ہوتا ہے؟

صورتحال پر قابو پانے کیلئے صدر راجا پاکسے نے پارلیمان میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے قومی حکومت بنانے کے لیے حمایت طلب کی، اس پیشکش کو حکمران اتحاد کے اتحادیوں سمیت بہت سے رہنماؤں نے مسترد کردیا۔

گزشتہ روز صدر کے بڑے بھائی وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے شدید عوامی مظاہروں کے بعد اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور لکھا کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں تاکہ ملک میں ایک عبوری اور کل جماعتی حکومت تشکیل دی جاسکے۔

کابینہ کے ترجمان کے مطابق صدر چند دنوں میں نئی ​​حکومت کی تشکیل کی توقع کے ساتھ اپوزیشن کے سیاست دانوں سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لیکن ہزاروں مظاہرین جنہوں نے "گوٹا (بیا) گھر جاؤ” کے نعروں کے لیے ہفتوں سے سڑکوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کے بعد صدر بھی عہدے سے استعفیٰ دیں۔

دو روز قبل تجارتی دارالحکومت کولمبو میں حکومت کے حامی اور مخالف مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں، تشدد میں اضافہ ہوا اور ملک کے دیگر حصوں میں گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

سری لنکا کے کچھ کاروباری گروپ فوری طور پر حل تلاش کرنے کے لیے ملک کے سیاست دانوں پر انحصار کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں