The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا ایسٹر حملے، پولیس افسر نے صدر کے احکامات نظر انداز کردیے

کولمبو: ایسٹر حملے سے متعلق تحقیقات میں سری لنکن پولیس افسر نے صدر کے احکامات کو نظر انداز کر کے پارلیمانی کمیٹی میں پیش ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا میں ایک پولیس افسر صدر متھیریپالا سری سینا کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے رواں برس ایسٹر کے موقع پر ہوئے حملوں کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے صدر سری سینا نے پولیس، فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں کو ایسٹر حملوں کے حوالے سے ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیش نہ ہونے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وہ سخت تنقید کی زد میں رہے تھے۔

ان کا موقف تھا کہ اس اجلاس میں پولیس، فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں کی شرکت سے خفیہ معلومات عام ہوسکتی ہیں۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر آنندا کماراسیری نے سماعت شروع کی جس کا اکثر حصہ ان کیمرا تھا جہاں انسپکٹر این بی کاستھریاراچی پیش ہوئے اور ثبوت کے حوالے سے اپنا بیان دیا۔

رپورٹ کے مطابق انسپکٹر این بی کاستھریاراچی حملوں کے وقت جہاں تعینات تھے حملہ آور کا تعلق بھی وہیں سے تھا تاہم حملہ آور دہشت گردی کی کارروائی سے ایک ماہ قبل ہی زیر زمین چلے گئے تھے۔

سری لنکن علماء کا ایسٹر دھماکوں کے حملہ آوروں کی لاشیں وصول کرنے سے انکار

ڈپٹی پارلیمانی سپیکر نے سماعت کے آغاز کے موقع پر فوجی اور پولیس عہدیداروں سمیت سرکاری ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی سے تعاون کرنے سے انکار پر انہیں 10 سال کی قید ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس کسی نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا یا ثبوت نہیں دیے تو پارلیمانی اآئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا اور وہ سزا کا مستحق ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں