The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا 2 ماہ سے ساحل پر کھڑے پیٹرول سے لدے جہاز تک رسائی کیوں نہیں کر پا رہا؟

کولمبو: سری لنکن ساحل پر 2 ماہ سے پیٹرول سے لدے جہاز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے تاہم حکومت کے دیوالیہ پن کی یہ حالت ہے کہ اس جہاز کو خریدنے کے لیے بھی حکومت کے پاس پیسے موجود نہیں ہیں۔

سری لنکا نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پیٹرول سے لدا جہاز تقریباً دو ماہ سے اس کے ساحل پر کھڑا ہے لیکن اس کے پاس ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی نہیں ہے۔

سری لنکا نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ایندھن کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر انتظار نہ کریں، تاہم سری لنکا کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے پاس ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔

بجلی اور توانائی کی وزیر کنچنا وجے سیکرا نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 28 مارچ سے پیٹرول سے لدا جہاز سری لنکا کے پانیوں میں لنگر انداز ہے، انھوں نے کہا ہمارے پاس پیٹرول سے لدے جہاز کی ادائیگی کے لیے امریکی ڈالر نہیں ہیں، اس کے علاوہ جنوری 2022 میں سابقہ کھیپ کے لیے اسی جہاز کے مزید 53 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں، اور متعلقہ شپنگ کمپنی نے دونوں ادائیگیاں طے ہونے تک جہاز چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں پیٹرول کا ذخیرہ محدود ہے اس لیے اسے ضروری خدمات خصوصاً ایمبولینسز کے لیے تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں