The news is by your side.

Advertisement

سری لنکن شہری قتل کیس، سزائے موت پانے والے مجرم نے فیصلہ چیلنج کردیا

سانحہ سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا قتل کیس میں موت کی سزا پانے والے مجرم تیمور نے لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سانحہ سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کے سری لنکن جنرل منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت سے سزائے موت پانے والے ایک مجرم تیمور نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج کردیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں اے ٹی سی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مجرم تیمور نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پراسیکیوشن شہادت کی بنیاد پر ملزم کیخلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اپیل میں درخواست گزار کا موقف ہے کہ ملزم پرالزام ہے کہ اس نےسری لنکن شہری کے سر پر اینٹ ماری جبکہ فرانزک ایجنسی کی رپورٹ میں اینٹ مارنے سے متعلق رپورٹ منفی ہے اسی طرح 2چشم دید گواہوں کی شہادتیں بھی قانونی تقاضے پورے نہیں کرتیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو قتل کرنے کا وقوعہ منظم منصوبے کے تحت نہیں تھا بلکہ حادثاتی تھا، سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں ہجوم میں ہر ملزم کی شناخت نہیں ہوسکتی۔

درخواست گزار نے اپیل میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اے ٹی سی کے درخواست گزار کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں سیالکوٹ وزیرآباد روڈ پر واقع نجی فیکٹری کے سری لنکن جنرل مینیجر پریانتھا کمارا فیکٹری ملازمین نے توہین مذہب کا الزام لگا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا اور پھر لاش کو چوک پر نذر آتش کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: سری لنکن شہری قتل: 6 مجرمان کو سزائے موت، 7 کو عمرقید

رواں ماہ 18 اپریل کو انسداد دہشتگردی گوجرانوالہ کی عدالت نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے قتل میں گواہان اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد 6 مجرمان کو سزائےموت اور 7 کو عمرقیدکی سزا سنائی ہے جب کہ 76 مجرمان کو 2، 2 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں