Sridevi سری دیوی کی موت واش روم میں گرنےکی وجہ سےہوئی، اسپتال رپورٹ
The news is by your side.

Advertisement

سری دیوی کی موت ٹب میں‌ ڈوبنے سے ہوئی، واقعہ حادثہ تھا: خلیجی اخبار کا دعویٰ

 دبئی: نامور بھارتی اداکاری سری دیوی کی فرانزک پورٹ سامنے آگئی۔ موت باتھ ٹب میں ڈوبنے سے ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق سری دیوی کی پراسرار موت کا معمہ حل ہوگیا۔ خلیجی میڈیا کے مطابق ان کی موت حادثاتی تھی، یہ واقعہ ٹب میں ڈوبنے سے پیش آیا۔

فرانزک رپورٹ میں سری دیوی کی موت حادثاتی قرار پانے کے بعد اس واقعے سے سے جڑے شبہات دم توڑ گئے ہیں۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی وجہ باتھ ٹب میں ڈوبنا ٹھہرائی گئی ہے۔ باتھ ٹب میں ہارٹ اٹیک کے بارے میں اندیشہ موجود ہے۔  نیز ان کے خون میں الکحول بھی پایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ابتدا میں سری دیوی کی موت کو ہارٹ اٹیک کا نتیجہ قرار دیا جارہا تھا، بعد میں یہ کہا گیا کہ ان کی موت واش روم میں گرنےکی وجہ سے ہوئی۔ اب ڈیٹھ سرٹیفیکیٹ میں موت کو حادثاتی طور پر ٹب میں ڈوبنا قرار دیا گیا ہے۔ سری دیوی کی میت چارٹرڈپرواز کے ذریعے آج دبئی سے ممبئی پہنچائی جائے گی اور آخری رسوم ممبئی میں ادا کی جائیں گی۔

قبل ازیں دبئی کے راشد اسپتال میں آنجہانی کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوا، جس کے بعد پوسٹ مارٹم، فرانزک اور لیب رپورٹ کا انتظار کیا جارہا تھا۔ ہندوستانی قونصلیٹ ذرائع نے موقف اختیار کیا تھا کہ فارنسک اور لیب رپورٹس آنے کے بعد سری دیوی کی لاش کو ممبئی لے جانے کے سلسلے میں کارروائی شروع کی جائیگی۔


مزید پڑھیں : سری دیوی کبھی امراض قلب میں مبتلا نہیں رہیں، سنجے کپور


ممبئی ایئرپورٹ کے ذرائع کے مطابق سری دیوی کی نعش چارٹرڈ طیارے سے آج دبئی سے ممبئی لائی جائے گی، جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ سری دیوی کے قریبی عزیز سنجے کپور کا کہنا تھا کہ وہ کبھی دل کے عارضے میں مبتلا نہیں رہیں، جب اداکارہ کا انتقال ہوا اس وقت وہ دبئی کے مقامی ہوٹل کے روم میں تھیں، اچانک اس موت کے بعد پورا خاندان گہرے صدمے کا شکار ہے۔


مزید پڑھیں : بالی ووڈ اداکارہ سری دیوی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسیں


خیال رہے کہ اداکارہ سری دیوی اپنے شوہر بونی کپور اور بیٹی خوشی کے ساتھ شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے دبئی کےشیخ زید روڈ پرواقع جمیرا ایمرٹس ٹاورز میں مقیم تھیں، جہاں انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں