The news is by your side.

Advertisement

کرونا سے مرنے والے شخص کے جسم سے وائرس نہیں پھیلتا، سری لنکن ماہرین کی تحقیق

کولمبو: مسلم کونسل آف بریٹن کے سربراہ سراقبال ساکرانی نے کہا ہے کہ سری لنکا کے ماہرین نے تحقیق کی جس میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ کرونا سے مرنے والے شخص کے جسم سے وائرس نکل کر پھیلتا نہیں ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سر اقبال ساکرانی کا کہنا تھا کہ کرونا سے مرنے والوں کی تدفین کے حوالے سے سری لنکن وزارتِ صحت نے گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی حتمی رپورٹ تیار کرلی۔

انہوں نے بتایا کہ گیارہ رکنی پینل میں شامل ماہرین نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ کرونا سے مرنے کے بعد وائرس پھیلتا نہیں اور نہ ہی ایسے کوئی شواہد ملے ہیں، لہذا حکومت مردوں کی تدفین کی اجازت دے۔

سری لنکن میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے وفات پانے والے مریضوں کا جسد خاکی جلانے کے معاملہ پر مسلمانوں کے شدید احتجاج اور سخت تشویش کے بعد ماہرین نے مردوں کی تدفین کی تجویز دے دی۔

سری لنکن وزارتِ صحت نے جسد خاکی جلانے کے بعد آنے والے شدید ردعمل کے بعد گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے پینل میں شامل ماہرین نے کرونا سے مرنے والوں کو دفنانے کی بھی تجویز دی۔

سری لنکن وزارت صحت کی گیارہ رکنی کمیٹی نے کرونا سے مرنے والے افراد کی آخری رسومات کے حوالے سے نظر ثانی کی۔ کمیٹی نے کہا کہ ’کرونا سے مرنے والوں کو جلانے کے ساتھ ساتھ دفنایا بھی جاسکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: سری لنکا : مسلمان میتوں کو زبردستی جلانے کا عمل جاری، 20 دن کا بچہ بھی شامل

سری لنکن میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے لاشوں کی تدفین بھی کی جاسکتی ہے۔

محکمہ صحت کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کرونا سے مرنے والے شخص کی قبر کم از کم ڈیڑھ میٹر گہری ہو، آخری رسومات کے دوران لواحقین کے جذبات کا احترام کیا جائے اور انہیں دیدار کی اجازت دی جائے۔



کمیٹی نے سفارش کی کہ مرنے والے شخص کے لواحقین ماسک پہن کر ایک میٹر فاصلے سے میت کا دیدار کرسکتے ہیں، آخری دیدار  مردہ خانے میں ہی کرایا جائے گا، اُس کے بعد تابوت میں جسد خاکی کو ڈال کر قبرستان بھیجا جائے گا جہاں تابوت کو کسی صورت کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ سری لنکا کی حکومت نے کرونا سے مرنے والے افراد کو جلانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد بالخصوص سری لنکا اور بالعموم دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں