The news is by your side.

Advertisement

کس کو کتنی گیس دینی ہے یہ اختیار وفاق کا ہے، ایس ایس جی سی

کراچی : سندھ میں گیس کی سپلائی کے معاملے پر ترجمان ایس ایس جی سی نے کہا ہے کہ کس کو کتنی گیس دینی ہے یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔ سندھ حکومت سیکیورٹی کی مد میں ایک ارب روپے ادا کرے، نوری آباد میں واقع پاور پلانٹ کی شرائط پوری نہیں کی اس لئے کنکشن نہیں دیا۔

 تفصیلات کے مطابق آج اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا تھا کہ اگر صوبے کو مطلوبہ مقدار میں گیس نہیں ملی تو سندھ سے جانے والی گیس کی سپلائی بند کردیں گے، سندھ سے نکلنے والی گیس پر پہلا حق اس صوبے کا ہے۔

اس بیان پر اپنا درعمل دیتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ گیس کی تقسیم میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہوتا، یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے کہ اس نے کس صوبے کو کتنی گیس دینی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نوری آباد میں واقع پاور پلانٹ نے کمپنی کی شرائط پوری نہیں کیں اور نہ ہی پاور پلانٹ نے ایک ارب روپے سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کرائے اس لئے اسے کنکشن نہیں دیا گیا۔

نوری آباد پر واقع مذکورہ پاور پلانٹ تک پائپ لائن بچھا دی گئی ہے اور میٹرنگ اسٹیشن بھی لگ چکا ہے، یہ پلانٹ جیسے ہی ڈپازٹ جمع کرائے گا اسے فوری کنکشن دے دیا جائے گا۔


مزید پڑھیں : گیس نہیں ملی تو سندھ سے سپلائی بند کردیں گے‘ وزیراعلیٰ سندھ


ترجمان ایس ایس جی سی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت گیس سیکیورٹی کی مد میں ایک ارب روپے ادا کرے۔ ترجمان ایس ایس جی سی نے بتایا کہ کمرشل اور انڈسٹریل گیس کنکشن پر بھی پابندی تھی، کنکشنز کی ہزاروں درخواستیں اب تک التواء ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں