site
stats
سندھ

معطل ایس ایس پی راؤ انوار دبئی روانہ

کراچی: معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے کہا ہے کہ دبئی جانے کا مقصد کسی پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات نہیں تاہم وہاں میرےبچے مقیم ہیں جن سے ملنے جارہا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق دبئی روانگی سے قبل ائیرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے معطل ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ ’’کسی بھی پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملنے نہیں، وہاں میرے بچے مقیم ہیں جن سے ملاقات کرنے جارہا ہوں تاہم واپس آکر اپنا مقدمہ لڑوں گا‘‘۔

پڑھیں:   متحدہ رہنما خواجہ اظہار الحسن کو رہا کردیا گیا

معطل ایس ایس پی  آج سندھ پولیس میں دھڑے بندیوں کے حوالے سے کی جانے والی پریس کانفرنس مؤخر کرکے دبئی روانہ ہوئے تو خبریں آئیں کہ وہ دبئی میں مقیم پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مفاہمت اور ملاقات کے لیے روانہ ہورہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے راؤانوار نے اس بات کی تردید کی اور اپنی روانگی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے روانگی کو غلط رنگ نہ دیا جائے ، پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت لندن میں مقیم ہے اور میرے پاس وہاں جانے کا ویزہ موجود نہیں ہے‘‘۔

مزید پڑھیں:  پولیس کے ہاتھوں خواجہ اظہار گرفتار، ایس ایس پی راؤ انوار معطل

راؤ انوار نے دبئی دورے پر مزید صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ’’دو روز میں واپس آکر اپنے حق کے لیے ہر فورم پر جاؤں گا ، انہوں نے کہا کہ ’’اگر واپس وطن نہ آؤں تو عوام سمجھ لے میں جھوٹا ہوں‘‘۔

یاد رہے راؤانوار کو خواجہ اظہار الحسن کی بغیر اجازت گرفتاری پر وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات پر معطل کیا گیا تھا، جس کے اگلے روز مراد علی شاہ بھی اچانک دبئی کے دورے پر روانہ ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئی جی سندھ کا خواجہ اظہار کو رہا کرنے کا حکم

معطلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی نے سندھ گورنمنٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکا گیا ہے تاہم اگر مجھے ہٹایا گیا تو کراچی آپریشن کے منفی نتائج سامنے آنے لگیں گے‘‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’مجھے کسی گورنمنٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، پولیس کے اندر گروہ بندی ہے اور ایک گروپ میرے خلاف سرگرم ہے جنہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو میرے بارے میں غلط آگاہی دی جبکہ خواجہ اظہار کی گرفتار ی کے بعد سیکریٹری سندھ کو اطلاع دے دی گئی تھی‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top