صفائی کی ابتر صورت حال سے متعلق کیس: حکومت سندھ کی کل تک مہلت طلب -
The news is by your side.

Advertisement

صفائی کی ابتر صورت حال سے متعلق کیس: حکومت سندھ کی کل تک مہلت طلب

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں صفائی کی ابتر صورتحال اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں حکومت سندھ نے جواب داخل کرنے کے لیے کل تک مہلت طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیو ایم کی جانب سے دائر کردہ صفائی کی ابتر صورتحال اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

بیرسٹر مصطفیٰ میسر نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔ ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں۔

بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ دنیا جہاں میں شہروں کے اختیارات مقامی حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں۔ ترکی سے فرانس تک مختلف ممالک نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر رکھے ہیں، سندھ حکومت نہ جانے کیا چاہتی ہے، میئر کو کچھ کرنے ہی نہیں دے رہی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کا بجٹ الگ الگ فراہم کیا جاتا ہے؟ ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت مقامی حکومت کو الگ الگ سکیشنز کے لیے مختلف نوعیت کا بجٹ مختص کرتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ لوکل گورٹمنٹ میں کوئی مس مینجمنٹ تو نہیں ہوتی جس پر ایم کیو ایم کے وکیل نے جواب دیا کہ مس مینجمنٹ کا اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بجٹ مختص ہوتا ہے لیکن جاری نہیں کیا جاتا۔ کراچی میں اس وقت 11 ہزار ٹن کچرا موجود ہے کوئی اٹھانے والا نہیں۔ پورا سمدھ کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سندھ حکومت کو نئے اور پرانے بجٹ جاری کرنے اور صفائی ستھرائی کا حکم دیا جائے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے بڑے شہروں بشمول کراچی میں صفائی اور کچرا اٹھانے کا نظام غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس نہیں ہیں، شہریوں کو صاف پانی میسر نہیں، شہر میں کچرے کے ڈھیر اور صفائی کی ابتر صورت حال سے چکن گونیا جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ کچرا اٹھانے کے لیے سالڈ ویسٹ مینجنمنٹ بورڈ کا قیام غیر قانونی ہے۔ سالڈ ویسٹ بورڈ کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ختم کیا جائے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں