The news is by your side.

Advertisement

وزارتوں کی ویب سائٹس اپ ڈیٹ نہ ہونے پرقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برہم

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے وزارتوں کی ویب سائیٹس پر معلومات نہ ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کا کوئی سر پیر نہیں،وفاقی وزارتوں کی ویب سائیٹس اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں جبکہ چیئر مین پی ٹی اے نے بتایا ہے کہ پی ٹی اے کا جعلی اکاونٹس اور دیگر شکایات کےلئے یو اے این نمبر موجود ہے،شکایات سننے کےلئے تقریبا 12 لائینز فراہم کی گئی ہیں،جو ہمیں شکایت موصول ہوتی ہے ،پی ٹی اے اسی وقت شکایات متعلقہ سروس کو بھجوا دیتا ہے،شکایات کے ازالہ کے لئے فیس بک کا ردعمل اچھا ، ٹوئیٹر کو اچھا نہیں ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس علی خان جدون کی صدارت میں ہوا جس میں پی ٹی اے نے سوشل میڈیا پر جعلی اکاونٹس پر بریفنگ دی ۔ چیئر مین پی ٹی اے نے کہاکہ پی ٹی اے کا جعلی اکاونٹس اور دیگر شکایات کے لئے یو اے این نمبر موجود ہے۔انہوں نے کہاکہ شکایات سننے کے لئے تقریبا 12 لائینز فراہم کی گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ جو ہمیں شکایت موصول ہوتی ہے پی ٹی اے اسی وقت شکایات متعلقہ سروس کو بھجوا دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ شکایات کے ازالہ کے لئے فیس بک کا ردعمل اچھا ، ٹوئیٹر کو اچھا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹوئیٹر اور فیس بک کی اچھی پالییسز ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ 114 اہلکار ایف آئی اے سائبر ونگ میں کام کررہے ہیں۔انہوں نے بتاکہ 406 اہلکاروں کی بھرتیاں رمضان کے بعد تک ہوجائیں گی۔انہوںنے کہاکہ عوام سائبر کرائم سے متعلق اپنے شکایات آن لائن درج کروا سکتے ہیں۔

ناز بلوچ نے کہاکہ میرے سوشل میڈیا پر موجود جعلی اکاونٹس تاحال موجود ہیں۔انہوںنے کہاکہ جعلی اکاونٹس کی رپورٹ بھی کی لیکن تاحال کوئی عمل نظر نہیں آسکا۔انہوں نے کہاکہ خواتین کی شکایات کے لئے علیحدہ اور زیادہ کال سینٹر قائم ہونا چاہیں۔ انہوںنے کہاکہ خواتین کو سوشل میڈیا پر زیادہ مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ ایف آئی اے میں 406 پوسٹوں میں 25 فیصد خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا سے متعلق 30 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ شکایات کا مرحلہ وار حل نکالا جارہا ہے۔زین قریشی نے تجویز دی کہ شکایات کا ٹریکنگ نظام بنایا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ شکایات کا آئن لائن پورٹل بنایا اور آن لائن ٹریکنگ بھی ہونا چاہیے ۔

سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ وزارت اس وقت سائبر سیکورٹی کے لئے نیشنل سرٹ کے لئے کام کررہی ہے، تمام اداروں کی سرٹس ہونگی جو نیشنل سرٹ کے ساتھ منسلک ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ وزارت آئی ٹی پالیسی تشکیل دیتی ہے،پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کے تابع ہے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ ایف آئی اے بھی ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔معروف افضل نے کہاکہ سائبر کرائم ایکٹ میں ہر ادارہ کا کردار مختص کیا گیا ہے۔ ناز بلوچ نے کہاکہ سوشل میڈیا کے مسائل کے حل کے لئے اضلاع تک سہولت فراہم کرنے کا نظام ہونا چاہیے ۔ ممبر ٹیلی کام نے کہاکہ پی ٹی اے اور ایف آئی اے کا اپنا اپنا مینڈیٹ ہے، پی ٹی اے خود سے ایف آئی اے کو شکایت ریفر نہیں کرسکتا۔

ممبر ٹیلی کام مدثر حسین نے کہاکہ شکایت کے لئے مدعی کو ہونا بہت ضروری ہے۔ناز بلوچ نے کہاکہ سوشل میڈیا پر جن کی زیادہ فالونگ ہے انہیں اس نظام بارے آگاہی دی جانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ جن کی سوشل میڈیا پر زیادہ فالونگ ہے وہ آگے آگاہی دے سکتے ہیں۔اجلاس کے دور ان نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حکام نے ای آفس پر بریفنگ دی ۔ این آئی ٹی بی حکام نے بتایاکہ ای آفس کا مطلب فائلنگ اور فائنگ کی آٹومیشن ہے، لیول ٹو پر وہ وزارتیں ہیں جن کا کوئی ایک ونگ ای آفس کے پیرا میٹر پر پورا اترے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو خود مختار ادارہ بنا رہے ہیں۔،42 میں سے 26 وزارتیں ای آفس کے لیول ٹو پر ہیں۔

سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ رواں سال کے آخر میں باقی تمام وزارتوں ای آفس کے لیول ون پر لے آئیں گے۔ حکام این آئی ٹی بی نے بتایاکہ بہت سی وزارتوں نے ای آفس کے حوالے سے گرمجوشی نہیں دکھائی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے وزارتوں کا سروے کرلیا، ای آفس کیلئے سامان فراہم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ اگلے سال جون تک تمام وزارتوں کو لیول فور پر لے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت چیف ٹیکنالوجی آفیسر تعینات کرےگی۔انہوں نے کہاکہ چیف ٹیکنالوجی آفیسر ای آفس کے تمام منصوبے کو مانیٹر کرےگا۔ایم این اے زین قریشی نے کہاکہ ہمیں ای آفس کے ساتھ سیکورٹی بڑھانا ہوگی۔

ایم این اے زین قریشی نے وزارتوں کی ویب سائیٹس پر معلومات نہ ہونے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کا کوئی سر پیر نہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وزارتوں کی ویب سائیٹس اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام وزارتوں کی ویب سائٹس کا ایک ہی ٹیمپلیٹ ہونا چاہیے۔ حکام این آئی ٹی بی نے بتایاکہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کو ایپ ڈیٹ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں۔ سیکرٹری آئی ٹی نے بتایاکہ آئی ٹی ٹاسک فورس نے آئی ٹی سے متعلق سلیبس کا تعین کیا ہے، ٹاسک فورس نے وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو وہ نصاب تجویز کیا ہے۔بازبلوچ نے کہاکہ طالب علموں کے لئے انٹرن شپ لازمی قرار دی جانا چاہیے ۔ معروف افضل نے کہاکہ اپنے آئی ٹی پارکس بنائیں گے تو اس میں کمپنیوں کو سبسڈی فراہم کی جائےگی۔سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ ہم آئی ٹی پارکس کیساتھ ساتھ اکنامک زونز بھی تیار کرنا چاہتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں