منگل, اگست 18, 2026
اشتہار

میڈیکل کالجز کی فیسوں اور خالی نشستوں پر تفصیلی رپورٹ طلب

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے میڈیکل کالجز کی فیسوں اور خالی نشستوں پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، عالیہ کامران، پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ملک بھر کے میڈیکل کالجز میں خالی نشستوں، بھاری فیسوں، معیارِ تعلیم اور پی ایم ڈی سی حکام کی اضافی مالی مراعات کے معاملات زیرِ بحث آئے۔

اجلاس میں نجی میڈیکل کالجوں کی کثیر فیسوں اور تعلیم کے گرتے ہوئے معیار پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ زیادہ فیسیں لینے کے باوجود جو نجی میڈیکل کالجز معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، وہاں تمام نشستیں پر ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہر میڈیکل کالج کی فیس، معیار اور خالی نشستوں کی الگ رپورٹ تیار کی جائے گی، طلبہ اور نجی میڈیکل کالج دونوں کے مفادات کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے خالی نشستوں کی وجوہات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے قائمہ کمیٹی کی سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔

چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے ملک بھر کے میڈیکل کالجز میں خالی رہنے والی نشستوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ نشستیں خالی رہنے کی وجوہات اور اس حوالے سے ایک مستقل پالیسی آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے یہ تجویز بھی دی کہ متعلقہ اضلاع کے ارکانِ اسمبلی خود اپنے علاقوں کے میڈیکل کالجوں کی صورتحال کا جائزہ لیں۔

قائمہ کمیٹی نے پنجاب کے احتجاجی طلبہ کے منسوخ کیے گئے لائسنسز کا معاملہ بھی اٹھایا اور اس پر حکام سے جواب طلبی کی۔

اجلاس کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر کی اضافی مالی مراعات اور اجلاس الاؤنسز کا معاملہ بھی زہر بحث آیا، کمیٹی رکن عالیہ کامران نے سوال اٹھایا کہ پی ایم ڈی سی میں تنخواہوں اور مالی مراعات کی منظوری سے متعلق قانونی پہلوؤں کو واضح کیا جائے۔

اس پر پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مالی مراعات کا معاملہ ابھی حتمی نہیں ہوا، بلکہ یہ صرف ابتدائی سطح پر ایک تجویز تھی جو زیرِ غور آئی تھی۔

قائمہ کمیٹی نے تمام معاملات پر تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے ان پر بحث آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دی۔

اہم ترین

مزید خبریں