The news is by your side.

Advertisement

بھارتی مظالم کیخلاف مزاحمت کا استعارہ بننے والی آفرین فاطمہ کون ہیں؟

بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی کی جانب سے توہین آمیز بیانات پر احتجاج کی قیادت کرنے والی آفرین فاطمہ مزاحمت کا ستعارہ بن چکی ہیں۔

ریاست اترپردیش میں حکمران جماعت بی جے پی نے مظاہروں اور زبان بندی کے لیے ایک جانب مقدمے، گرفتاریاں اور تشدد کا راستہ اپنایا ہے تو دوسری جانب بدترین ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے گھر مسمار کیے جارہے ہیں۔

یوپی پولیس نے پریارگ راج جو کہ پہلے (الہ آباد) تھا میں احتجاجی مظاہروں کی پاداش میں سیکڑوں گرفتاریوں کے بعد آفرین فاطمہ کا گھر ہیوی مشینری کے ذریعے بغیر نوٹس کے مسمار کر دیا۔

ریاستی مظالم کے خلاف ڈٹ جانے والی آفرین فاطمہ کی بہادری پر دنیا بھر میں چرچے ہو رہے ہیں سوشل میڈیا پر لوگ ان سے اظہاریکجہتی کرتے نظر آرہے ہیں۔

آفرین فاطمہ کے حق میں ٹوئٹر پر اسٹینڈ ود آفرین فاطمہ کا ٹرینڈ بھی چل رہا ہے جس میں صارفین مسلم لڑکی جراءت کو سراہ رہے ہیں۔

عزم و ہمت کی پیکر آفرین فاطمہ ویلیفئر پارٹی آف انڈیا کے رہنما جاوید محمد کی صاحبزادی ہیں جو خود بھی سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی قیادت بھی کرتی آئی ہیں۔ 22 سالہ فاطمہ فرٹنیٹی موومنٹ کی نیشنل سیکرٹری ہیں جب کہ انہوں نے نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے سنہ 2021 میں ماسٹر کیا تھا جہاں وہ طلبہ یونین کی کاؤنسلر بھی رہی ہیں۔

آفرین فاطمہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمن کالج کی طلبہ یونین کی صدر بھی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے رات گئے گھر پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمیں زبردستی نکال کر گھر کو تالا لگا دیا جس کے بعد اگلے ہی روز گھر پر بلڈوزر چڑھا دیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں