جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

اسٹینلے والپرٹ: میرین انجینیئر کا تذکرہ جو تاریخ داں مشہور ہوا

اشتہار

حیرت انگیز

برصغیر کی سیاسی و جغرافیائی تاریخ، ہندوستان کے مشہور سیاست دانوں اور اہم شخصیات کے علاوہ تحریکِ آزادیٔ ہند اور تقسیم کے حالات و واقعات پر مستند معلومات کی بنیاد پر مضامین، سوانح، تجزیاتی و تاثراتی تحریریں لکھنے والوں میں پروفیسر اسٹینلے والپرٹ کو بہت سراہا جاتا ہے۔ وہ بطور مصنف، استاد اور سیاسی مبصر دنیا بھر میں‌ مشہور ہوئے۔ ان کی ایک تصنیف ’جناح آف پاکستان‘ کے عنوان سے سامنے آئی تھی، جو بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سوانح ہے جو پاکستان میں بہت مقبول ہوئی۔

اس کتاب میں امریکی مصنّف پروفیسر اسٹینلے والپرٹ نے قائد اعظم کا تعارف کرواتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ چند ہی شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جو تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیتی ہیں۔ ایسے افراد تو محض مٹھی بھر ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ تبدیل کر دیں اور اُن لوگوں کی تعداد تو شاید آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ ہو، جنھیں قومی ریاست تشکیل دینے کا اعزاز حاصل ہوا ہو، مگر محمّد علی جناح نے یہ تینوں کام انجام دیے۔‘‘

اسٹینلے والپرٹ اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمد علی جناح پاکستان کے لیے ایک روحانی باپ اور ریاست کے پہلے سربراہ تھے جیسے مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو مشترکہ طور پر ماڈرن بھارت کے لیے تھے۔ انھوں نے مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد علی جناح نے اپنا سفر انڈین نیشنل کانگریس کے ’ہندو مسلم اتحاد کے سفیر‘ کے طور پر شروع کیا لیکن 40 برس بعد اسے تقسیم کے معمار کے طور پر ختم کیا جس نے پاکستان کو بھارت(متحدہ ہندوستان) سے علیحدہ کر دیا۔

والپرٹ کا بطور تاریخ داں اور مصنّف سفر اس وقت شروع ہوا جب وہ مہاتما گاندھی کی آخری رسومات ادا کرنے کے موقع پر ہندوستان میں موجود تھے۔ 12 فروری 1948ء کو نوجوان اسٹینلے والپرٹ امریکی مرچنٹ نیوی کے جہاز سے بحیثیت انجینئر اس وقت کے مشہور شہر بمبئی کے ساحل پر اُترے جہاں ایک جم غفیر مہاتما گاندھی کی آخری رسم کی ادائیگی کے لیے دیکھا۔ امریکی میرین انجینئر والپرٹ کو یہ سب کچھ بہت عجیب لگا۔ چند روزہ قیام کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس لوٹا تو اس نے جنوبی ایشیا کی تاریخ کے مطالعے اور تحقیق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔

یہ سب والپرٹ کے حلقۂ احباب کے لیے نہایت حیران کن تھا کہ سائنس کے میدان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ نوجوان اچانک کیوں کر ایک نئے مضمون میں اس قدر دل چسپی لے رہا ہے اور کس طرح‌ اپنے کیریئر کو آگے بڑھا سکے گا، مگر نوجوان والپرٹ نے جو عہد کیا تھا، اسے پورا کیا۔ انھوں نے تاریخ کے مضمون میں کیریئر بنایا اور ایسی شہرت پائی کہ انھیں دنیا کے مختلف ممالک میں لیکچرز دینے کے لیے مدعو کیا جانے لگا۔ اسٹینلے والپرٹ 23 دسمبر 1927 ء کو بروکلین سٹی، نیویارک میں پیدا ہوا۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گریجویشن کے لیے سائنس کے شعبے کا انتخاب کیا اور میرین انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔ تاریخ کا مضمون اپنانے کے لیے پڑھائی شروع کی تو 1953ء میں سٹی کالج، نیویارک سے بی اے اور ایم اے کی سند حاصل کر لی۔ انھیں برّصغیر کی تاریخ میں بالعموم اور سیاسی تاریخ میں بالخصوص دل چسپی تھی۔ 1959ء میں اسٹینلے والپرٹ نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا، امریکا سے پی ایچ ڈی کیا۔ پی ایچ ڈی کی تکمیل کے فوراً بعد اسٹینلے والپرٹ نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کے شعبۂ تاریخ میں بطور انسٹرکٹر پڑھانا شروع کیا۔1960-63ء میں اسسٹنٹ پروفیسر، 1963-66ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور 1967ء میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ اسی سال اُن کی کتاب’’ Morley and India ‘‘بھی سامنے آئی۔ 1968ء میں شعبۂ تاریخ کے سربراہ بنائے گئے۔ 1977ء میں ان کی کتاب ’’A New History of India‘‘ شایع ہوئی جس کے کئی ایڈیشنز فروخت ہوئے۔ اپنے تاریخی مضامین اور ان تصانیف کی وجہ سے اسٹینلے والپرٹ نے دنیا بھر میں شہرت پائی۔ ان کو برّصغیر کی تاریخ و سیاست کے ایک مستند ترین مؤرّخ کے طور پر یاد کیا جانے لگا۔ قائد اعظم پر ان کی تصنیف 1984ء میں سامنے آئی۔ وہ جنوبی ایشیا، ہندوستان کے حالات پر اور سیاسی واقعات پر سند قرار دیے گئے اور ان کے فکر انگیز لیکچرز سے تاریخ کے طلبہ نے استفادہ کیا۔

اسٹینلے والپرٹ 19 فروری 2019ء کو چل بسے تھے۔ سائنس کے شعبے کو چھوڑ کر تاریخ کا مضمون اپنانے اور اس میں اپنی تحقیقی بصیرت اور تجزیاتی فکر سے آراستہ تصانیف شایع کروانے والے والپرٹ کو آج حصولِ‌ تعلیم میں ان کی لگن اور عزم و ارادے کی بنیاد پر مثال بنا کر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں