The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک سودی نظام کے خاتمے کا ٹائم فریم دے، سینیٹرسراج الحق

اسلام آباد : امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سود کا خاتمہ آئین پاکستان کا تقاضا ہے، قوم سود اور کرپشن فری پاکستان چاہتی ہے، انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے ٹائم فریم مانگ لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام انسداد سود کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں سودی نظام کا نفاذ تمام مسائل کی جڑ ہے۔ سودی نظام کی وجہ سے ملک کے تمام ادارے برباد ہو چکے ہیں ۔اس نظام کا جاری رہنا نظریہ پاکستان سے بغاوت ہےاور معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ناموس رسالت کی توہین پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے جبکہ حکومت تحفظ ناموس رسالت میں بھی ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر داخلہ کے اعلانات اپنی جگہ اب ہم عملی اقدامات چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے پانامہ کیس کا فیصلہ عوام کے حق میں اور کرپشن کے خلاف ہو۔ اسٹیٹ بینک سرکاری قرضے لیکر معاف کروانے والوں سے پیسہ واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کروائے۔ قوم سود سے پاک اور کرپشن فری پاکستان چاہتی ہے۔ ملک میں کرپشن اور سود کا گٹھ جوڑ ہے۔ سودی نظام انسانیت کے خلاف معاشی دہشتگردی ہے۔

اقتصادی مشکلات اور بیروزگاری کی وجہ سودی نظام ہے۔ سودی نظام کا جاری رہنا نظریہ پاکستان سے بغاوت ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے رواں برس مئی میں اسلام آباد میں تحفظ ناموس رسالت اور سودی نظام کے خاتمے سے متعلق گرینڈ عوامی جرگہ منعقد کرانے کا بھی اعلان کیا۔

کنونشن سے خطاب میں جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق سمیت دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ سودی نظام کے خاتمے کیلئے سیاسی و مذہبی طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر موثر تحریک چلانا ہو گی۔ ملک سے کرپشن کے خاتمے تک سودی نظام کا خاتمہ ممکن نہیں۔

پارلیمانی سطح پر آج تک سودی نظام خاتمے کے بارے عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ پاکستان بد ترین اقتصادی حالت سے گزر رہا ہے۔ ہر پاکستانی ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض ہے۔ وفاقی حکومت سود کے بجائے متبادل معاشی نظام کی طرف آئے۔

کنونش کے مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ اب مزید ملک میں سودی نظام برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ہر قسم کا سود حرام اور اسلامی قوانین کے خلاف ہے ۔تمام سودی قوانین کو کالعدم قرار دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں