site
stats
پاکستان

عوام پر فیصلے مسلط کیے گئے ، بنگالی کو قومی زبان ہونا تھا، رضا ربانی

کراچی: چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست نے ہمیشہ عوام پر فیصلے مسلط کیے جس کے باعث ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، بڑے منصب پر پہنچنے کے باوجود میں بھی قید اور بے بس ہوں، اردو کو قومی زبان کے طور پر مسلط کیا گیا جبکہ اس کا حق بنگالی زبان کو تھا۔

کراچی آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ شہر قائد پاکستان کی سیاسی رہنمائی کرتا ہے، جس شہر کی گلیاں پانی سے دھوئیں جاتی ہیں اُس میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے اپنی امان میں گدھوں کی پناہ دی اور انہوں نے صوفیوں کی سرزمین پر اپنی وحشت قائم کرنے کے لیے دہشت گردی کی، ہم دہرے فیصلے کرتے ہیں اس لیے ملک ترقی نہیں کرتا جب تک حکمران دہرے پن سے باہر نہیں نکلیں گے ملک ترقی نہیں کرسکتا‘‘۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ’’ریاست نے جبری طور پر اردو زبان کو قومی زبان بنایا جبکہ ہمیں تقسیم برصغیر کے بعد بنگالی زبان کو ہی قومی زبان کا رتبہ دینا چاہیے تھا، اس کے علاوہ ریاست نے سندھی، بلوچی، پنجابی کو پشتو زبان بننے ہی نہیں دیا‘‘۔

رضا ربانی نے کہا کہ ’’پاکستانی قومیتوں کی ثقافتوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تو میں بھی عرب کی ثقافت کو اپنی ثقافت نہیں مان سکتا، ریاست نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اردو ادب کو ختم کیا جس کا عوام کو احساس ہے اور اب اس معاملے پر آواز اٹھانا لازم ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست نے ہمیشہ عوام پر فیصلے مسلط کیے، اتنے بڑے عہدے پر پہنچنے کے باوجود میں قید اور بے بس ہوں، ذہنی الجھن نے کتاب لکھنے پر مجبور کیا کیونکہ ہم ریاستی فیصلوں کے مطابق اظہار رائے نہیں کرسکتے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top