The news is by your side.

عمران خان پر قاتلانہ حملہ ناکام بنانے والے کارکن کا بیان سامنے آگیا

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر حقیقی آزادی مارچ کے دوران قاتلانہ حملہ ناکام بنانے والےکارکن کا بیان سامنے آگیا۔

ابتسام نامی کارکن نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ میں کنٹینر کے باہر کھڑا تھا، حملہ آور کو پستول لوڈ کرتے دیکھا اور اس کے دونوں ہاتھ اوپر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کو دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھا اور پستول اس کی نیچے کرنے کی کوشش کی، میں نے دیکھا کہ حملہ آور نے پستول اوپر کی میں جھپٹا تو نشانہ نیچے ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگیں، یاسمین راشد

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور بھاگا تو پیچھے سے اسے پکڑ لیا اس کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا، فائرنگ کرنے والا کنٹینر سے 10 فٹ دور تھا۔

سابق وزیر اعظم پر وزیر آباد میں حقیقی آزادی مارچ کے دوران مسلح شخص کی جانب سے اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ کنٹینر پر دیگر راہنماؤں کے ساتھ موجود تھے۔ فائرنگ سے 6 افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

فائرنگ کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور کینٹینر پر موجود رہنما بھی گھبرا گئے۔ فائرنگ کے وقت قافلہ ظفر علی خان چوک کے قریب پہنچا تھا۔ کارکنان عمران خان کو ہاتھوں میں اٹھا کر کنٹینر سے گاڑی میں لے کر روانہ ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں