کراچی (9 دسمبر 2025) سوشل میڈیا کے اس دور میں جب ہر وقت موبائل ہاتھ میں رہتا ہے اس سے دور رہنے کا دلچسپ مقابلہ منعقد کیا گیا۔
دنیا گلوبل ولیج نہیں رہی بلکہ موبائل فون کے ذریعہ بلکہ ہاتھ کی ہتھیلی کے اندر سما چکی ہے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر عمر کے فرد کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل فون نظر آ رہا ہے۔ ان حالات میں موبائل فون سے دور رہنے کا دلچسپ مقابلہ منعقد کرایا گیا جس میں جیتنے والے کو بڑا انعام بھی دیا گیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق یہ دلچسپ اور منفرد مقابلہ بھارتی پنجاب کے ایک گاؤں گولیا کھرد میں کرایا گیا جس کو موبائل فون کی بڑھتی ہوئی لت کے خلاف پہلی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس انوکھے مگر سبق آموز مقابلے میں 55 سے زائد شرکا نے حصہ لیا۔ ان میں نوجوان، مرد، خواتین، بزرگ اور بچے سب شامل تھے۔
مقابلے کے لیے سخت اصول رکھے گئے تھے، جن کے تحت شرکا کو ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا تھا۔ ان کے موبائل فون اپنے ساتھ رکھنے پر پابندی تھی۔ وہ نہ اٹھ سکتے تھے اور نہ بات کرسکتے تھے، حتیٰ کہ سونا یا واش روم جانا بھی منع تھا۔
منتظمین نے شرکا کے لیے پانی اور کھانے کا انتظام بھی کیا تھا، تاکہ وہ وہاں سے جانے کے لیے کوئی بہانہ نہ بنا سکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مقابلے میں موبائل فون سے سب سے زیادہ وقت تک دور رہنے والا اول قرار پایا اور اس کو ایک بائیسکل سمیت ساڑھے 4 ہزار روپے دیے گئے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے کو ڈھائی ہزار جب کہ تیسرے نمبر پر آنے والے کو 1500 روپے انعامی رقم دی گئی۔
اس دلچسپ مقابلے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس مقابلے کا اصل مقصد انعام تقسیم کرنا نہیں بلکہ شہریوں اور نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنا ہے کہ موبائل فون کی حد سے زیادہ عادت ذہنی، جسمانی اور خاندانی نقصان کا سبب بن رہی ہے، اس طرح کی سرگرمی لوگوں کو خود سے، خاندان سے اور سماجی زندگی سے دوبارہ جوڑنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
اس دلچسپ مقابلے کی بھارت بھر میں شہرت پھیل رہی ہے اور اکثریت اس کو ڈیجیٹل ڈی ٹاکس” کی ایک کامیاب مقامی مہم قرار دے رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


