The news is by your side.

Advertisement

اسٹاک ایکسچینج حملے میں کتنی جماعتیں ملوث ہیں؟ اے آئی جی کا انکشاف

کراچی: ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر دہشت گردوں کے حملے میں صرف ایک جماعت شامل نہیں ہے۔

گزشتہ رات اپنے ایک اہم بیان میں کراچی پولیس چیف نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) کے ساتھ دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی کراچی حملے میں شامل ہو سکتی ہیں۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے، ان کے پاس سے 50 سے زائد دستی بم، 4 کلاشن کوف اور متعدد گولیاں ملیں۔ ایڈیشنل آئی جی نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گرد حملے کی تحقیقات کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کر رہی ہے، یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ملزمان نے یقیناً پہلے ریکی اور منصوبہ بندی کی ہوگی۔

دہشت گرد حملے سے پہلے ہی ایجنسیوں نے آگاہ کر دیا تھا: پی ایس ایکس

ادھر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بیرونی حمایت یافتہ حملہ تھا، اس کی باقاعدہ سرپرستی کی گئی ہے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے بھارتی قیادت کے بیانات موجود ہیں، پاکستان اس سلسلے میں عالمی برادری کو پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارتی ایجنسی را کے ثبوت موجود ہیں، نئی دہلی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کی شمولیت کو چھپا نہیں سکتا، بھارتی وزارت خارجہ کے کراچی حملے پر تبصرے تردید کے سوا کچھ نہیں۔

واضح رہے کہ کل صبح 10 بج کر 5 منٹ پر کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر 4 دہشت گردوں نے بڑی تعداد میں اسلحے کے ساتھ حملہ کیا، مرکزی گیٹ پر بم پھینکنے کے بعد انھوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی، تاہم عمارت میں تعینات سیکورٹی گارڈز اور پولیس اہل کاروں نے انھیں روکتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ اس حملے میں چاروں دہشت گرد مارے گئے، جب کہ پولیس اہل کاروں اور نجی سیکورٹی گارڈز سمیت 7 افراد شہید ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں