لندن کے نائٹ کلب واقعے پر جہاں انگلینڈ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کا مستقبل اور کپتانی خطرے میں پڑ گئی ہے تو وہیں سابق کپتان ان کے دفاع میں بھی آگئے۔
انگلش ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے کہا ہے کہ بین اسٹوکس کو کپتان کے عہدے سے نہیں ہٹانا چاہیے۔
مائیکل وان کے مطابق نائٹ کلب میں ہونے والے واقعے کی قیمت بین اسٹوکس سے کپتانی چھین کر نہیں چکانی چاہیے۔
اسٹوکس اور اٹکنسن دونوں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور کرکٹ ریگولیٹر کے زیر تفتیش ہیں۔
سابق کپتان وان نے ٹیلی گراف میں لکھا کہ "باہر "جی ہاں، بین اسٹوکس نے کرفیو توڑ دیا انہوں نے غلطی کی ہے لیکن کیا اس بات پر انہیں انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر برطرف کرنا چاہیے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا۔”
خطرہ
انگلینڈ ٹیسٹ کے کپتان بین اسٹوکس ایک بار پھر تنازع کی زد میں آگئے جس پر ان کے مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
بین اسٹوکس کو نائٹ کلب واقعے پر کپتانی سے ہٹایا جا سکتا ہے جو کہ انگلینڈ کی میزبانی میں نیوزی لینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بین اسٹوکس اپنے مستقبل پر چھائے کالے بادلوں کو ہٹانے لیے فکرمند ہیں کیونکہ وہ اور گس اٹکنسن آدھی رات کے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک نائٹ کلب میں موجود تھے جہاں سارسینز کے رگبی کھلاڑی کے ساتھ جھگڑے کی اطلاعات ہیں۔
انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ اور پریم رگبی کلب کی جانب سے انگلینڈ کے کرکٹ کپتان بین اسٹوکس، تیز گیند باز گس اٹکنسن اور سارسینز اکیڈمی رگبی یونین کے کھلاڑی ٹوٹوا اووا کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ای سی بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی جیت کے اختتام کے بعد بین اسٹوکس اور اٹکنسن پیر کی صبح "ٹیم پروٹوکول کی خلاف ورزی” میں ملوث تھے۔
Saracens نے کہا کہ وہ ایک واقعے سے آگاہ ہیں اور "فی الحال مکمل حقائق قائم کر رہے ہیں”۔
Saracens کے کھلاڑی چیلسی کے Rex Rooms نائٹ کلب میں سیزن کے اختتام کی پارٹی کا جشن منا رہے تھے، جہاں نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ کی پہلی ٹیسٹ جیت کے بعد پیر کی صبح کے اوائل میں اسٹوکس اور اٹکنسن بھی موجود تھے۔
اسکائی اسپورٹس نیوز کے مطابق سارسنز کے ایک کھلاڑی نے اٹکنسن کو مکا مارا جو ایک سیکیورٹی گارڈ کو لگا جو کہ کھلاڑیوں کی نگرانی کر رہا تھا۔
اس مرحلے پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا صرف ایک مکا تھا یا پھر ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ای سی بی کے سیکیورٹی افسر کو ٹانکے لگانے کی نوبت آئی تھی لیکن اسٹوکس اور اٹکنسن زخمی نہیں ہوئے۔


