The news is by your side.

Advertisement

روم: “پومپے” کی درد ناک کہانی جسے گرم لاوا نگل گیا!

یہ پہلی صدی عیسوی کے ایک شہر کی دردناک روداد ہے جسے راکھ میں‌ دفن ہوئے 2000 سال بیت چکے ہیں۔

آج ہم 2021ء میں سانس لے رہے ہیں اور یہ پہلی صدی عیسوی کا ایک بارونق اور آباد شہر تھا۔ اسے پومپے کے نام سے جانا جاتا تھا جو کوہِ ویسوویئس کے پھٹنے سے تباہ ہوا۔

اس شہر کے قدیم آثار، اشیا اور انسانی جسم کی باقیات سے جو کچھ معلوم ہوسکا اس کے مطابق یہ شہر آتش فشاں کی نذر ہوگیا تھا اور لوگ اونچائی سے آتے ہوئے گرم لاوے کی زد میں آگئے۔

آتش فشاں پہاڑ آگ اُگلنے لگا تو ہر طرف سیاہ دھوئیں کے بادل سے چھاگئے اور آبادی کی اکثریت اس کی زد میں آکر خاک ہوگئی۔ کئی انسانی جانیں زہریلے دھوئیں کے سبب ضایع ہوئیں‌ اور ان کی لاشیں 1600 برس تک زیرِ زمین دبی رہیں۔

کہتے ہیں اس سانحہ کا ایک شاہد رومن لکھاری پلنی دی ینگر تھا جو وہاں سے بھاگ نکلنے میں کام یاب ہو گیا تھا۔ اس نے کسی طرح ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر اپنی جان بچائی اور وہاں سے کھڑے ہوکر تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کا چچا پلنی دی ایلڈر دیگر شہریوں کے ہمراہ موت سے ہمکنار ہو چکا تھا۔

18 ویں صدی میں پومپے کی کھدائی کا کام شروع ہوا اور اس کھدائی کے نتیجے میں روم کے اس قصبے میں شان دار زندگی کا انکشاف ہوا۔ اس کھدائی کے بعد شہر کے بازار، غسل خانے، راستوں اور کھیلوں کے مقامات وغیرہ کا علم ہوا۔ رہائشی مکانات سے ماہرین نے ان کے طرزِ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی۔اس دریافت کے نتیجے میں قصبے کی سیاسی زندگی کے آثار بھی ملے۔

(کتاب ’’ستر عجوبے‘‘ سے ماخوذ)

Comments

یہ بھی پڑھیں