The news is by your side.

Advertisement

چیونٹی کی ہمسایہ بِھڑ

ہم چیونٹیاں ایسی زندگی جس میں ہر لمحہ خطرۂ جاں ہو، پسند نہیں کرتیں جب تک کہ کوئی بڑا مقصد سامنے نہ ہو

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کچھ چیونٹیوں نے ایک ویران گھر کے کھنڈر میں اپنا گھروندا بنالیا۔ وہ ایک مدّت سے یہاں رہ رہی تھیں۔ ایک روز چند تند، سرخی مائل بھڑیں بھی وہاں آپہنچیں اور اُنھوں نے اسی ویران گھر کی دیوار میں اپنا چھتّا بنالیا۔ چیونٹیاں اور بھڑیں اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتی تھیں اور امن چین سے زندگی گزار رہی تھیں۔

چیونٹیاں تعداد میں بہت تھیں۔ یوں اُس ڈھنڈار میں باپ، مائیں، ان کے بچے بچیّاں، نواسے، نواسیاں، پوتے پوتیاں اور پَر نواسے، ایک وسیع اور تہ در تہ گھر میں زندگی بسر کررہے تھے اور جیسا کہ ان کا ہے، وہ گرمیوں کے دنوں میں باغوں، صحراؤں اور کونوں کھدروں میں پھیل جاتیں اور صبح سے رات تک دانہ دنکا اکٹھا کرتیں، اپنے ذخیرے کو بھرتی جاتیں اور سردیوں کے دنوں میں مزے سے زندگی گزارتیں۔

ایک دن بزرگ بِھڑ دیوار پر بیٹھی اِدھر اُدھر نگاہ کررہی تھی۔ کیا دیکھتی ہے کہ ایک چیونٹی خشک تُوت کو دانتوں میں تھامے، اسے اپنے گھروندے تک لے جانا چاہتی ہے، مگر چونکہ کم زور ہے، نیچے آرہی ہے۔ اب وہ دانے کو اپنے دانتوں میں دابے دیوار کی بلندی کی جانب کھینچ رہی تھی۔ ابھی وہ آدھے رستے تک بھی نہ پہنچ پائی تھی کہ خشک تُوت اس کے منہ سے پھر گر گیا۔

چند بار ایسا ہی ہوا کہ بیچاری چیونٹی اسے زمین سے اُٹھاتی، آدھی راہ طے کرتی اور وہ زمین پر آ رہتا۔ آخرِ کار ایک بار وہ دانے کو دیوار کے آخر تک لے جانے میں کام یاب ہوگئی۔ اب اس نے دانہ لبِ بام رکھا اور اس کے پہلو میں کھڑی ہوگئی۔ تھکن سے چُور اس نے لمبا سانس لیا اور بولی: ہائے افسوس، میرے مولا، میں تو تھکن سے نڈھال ہوگئی!

بزرگ بِھڑ جو چیونٹی کے صبر اور حوصلے پر حیران تھی، اپنی جگہ سے اُڑی اور چیونٹی کے پاس آبیٹھی اور کہنے لگی: معاف کرنا، یہ تو تمھیں یقیناً معلوم ہوگا کہ ہم، ہم ہمسائے ہیں اور اسی دیوار کے ایک سوراخ میں رہتے ہیں۔

چیونٹی بولی، ہاں ہاں مجھے معلوم ہے، آپ کا شکریہ۔ اصل میں ہر کوئی اپنے اپنے کام میں جُتا ہوا ہے۔ بھڑ بولی: بے شک زندگی ہے تو یہ سب کُچھ ہے، مگر یہ کیا کام ہوا کہ تم چیونٹیاں کرتی رہتی ہو؟

”کون سا کام“؟ چیونٹی بولی: آخر ہم کیا کام کرتی رہتی ہیں کہ تمھیں عجیب لگا“ بِھڑ بولی: بالکل بیکار، تمھارا کام یہی تو ہے کہ سارا سال یہاں وہاں سے کھانے کے لیے دانے اکٹھا کرتی ہو اور بڑی دقّت سے انھیں کھینچ کھانچ کر اپنے گھروندے میں لے جاتی ہو اور وہاں ذخیرہ کرلیتی ہو۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس ننھے سے پیٹ کے لیے تم کس قدر حرص اور لالچ سے کام لیتی ہو!

چیونٹی بولی: مجھے نہیں معلوم تم کہنا کیا چاہتی ہو۔ کیا اس کام کے سوا، جو ہم کرتی ہیں، کوئی اور کام بھی ہے؟ ہم گرمیوں کے پورے موسم میں کام میں جُتی رہتی ہیں اور سردیوں کے دنوں میں اپنے گھر میں نیند لیتی ہیں اور اپنے جمع شدہ غلّے کو کام میں لاتی ہیں۔ ایسے میں تمھارا طرزِ عمل کیا ہوتا ہے؟

بِھڑ نے کہا: ہم کبھی دانے کھینچنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہم گرمیوں کے موسم میں بہترین خوراک کھاتے ہیں اور اس قدر کھاتے ہیں کہ سارے موسمِ سرما میں سیر رہتے ہیں اور سوئے رہتے ہیں، حتّٰی کہ دوبارہ گرمیوں کا موسم آ جاتا ہے!

چیونٹی بولی: بہت خوب، تمھارا اپنا رنگ ہے، ہمارا اپنا ڈھنگ۔ سب ایک جیسے تو نہیں ہوتے نا۔ ہر کسی کا اپنا اپنا طریقہ اور راہ و رسم ہے۔

تم لوگ تکلیف نہیں اُٹھاتے، لوگوں کا مال کھاتے ہو اور لوگ تمھارے ہاتھوں تنگ ہیں۔ ہر کوئی تمھیں برا بھلا کہتا ہے، لیکن ہمارا رزق حلال ہے، صحراؤں میں گرے پڑے دانے، گری پڑی شکر اور حیوانوں اور پرندوں کی بچی کھُچی خوراک۔ ہمیں لوگوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شاعر نے بھی ہماری تعریف میں شعر کہا ہے:

دانہ کش چیونٹی کو مَت سَتا مرے بھائی
وہ بھی جان رکھتی ہے اور جان ہے پیاری

اس کے برعکس تمھیں لوگ برے لفظوں سے یاد کرتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

کوئی یہ بھِڑ سے کہے جاکے اے ہمہ آزار!
جو شہد دے نہیں سکتی تو ڈنک بھی مت مار

بِھڑ کہنے لگی: ایسی باتیں کم زور لوگ کیا کرتے ہیں۔ تم لوگ اپنا دل یہ سوچ کر خوش کرتے ہو کہ چیونٹیاں ہو اور بے آزار ہو اور شاعر نے تمھاری تعریف کی ہے، لیکن تم نے اِس زندگی سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔

تم نے قصّاب کی دکان کا گوشت کبھی نہیں کھایا اور انگور کی بیلوں سے لٹکے انگوروں کے رس کا مزہ کبھی نہیں چکھا۔ ایک دن تمھاری زندگی اختتام کو پہنچ جائے گی اور تم مرجاؤ گی، زندگی کا لطف اٹھائے بغیر! لیکن جب ہم مریں گے تو دھوکا کھائے ہوئے لوگوں میں سے نہیں ہوں گے۔

ہم نے دنیا کے عیش بھی کیے ہیں اور اپنے ڈنک سے لوگوں سے انتقام بھی لیا ہے۔ ہمارے ایک دن کی قدر و قیمت تمھاری عمر کے ایک برس سے بڑھ کر ہے۔ میں تو چاہتی ہوں کہ کوئی ستّر سالہ بدبخت شاعر ہماری تعریف نہ کرے۔

چیونٹی نے تعجب سے کہا: اچھا تو تم لوگ قصّاب کی دکان کا گوشت بھی کھاتے ہو؟

بھڑ نے کہا: ارے واہ! اگر تمھیں نہیں معلوم تو میرے ساتھ آؤ تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ ہم کیا کیا کارنامے کرتے ہیں۔

چیونٹی نے کہا: تمھیں معلوم ہے میں تمھارے ساتھ پرواز نہیں کرسکتی۔ اگر سچ کہتی ہو تو مجھے اپنے ساتھ اڑا لے چلو تاکہ میں دیکھوں اور یاد رکھوں۔

مغرور بِھڑ، چیونٹی کو اپنے کارناموں سے آگاہ کرنا چاہتی تھی۔ اس نے چیونٹی کو اپنے دانتوں سے پکڑا اور قصاب کی دکان پر لاکر زمین پر بٹھا دیا اور کہا: یہیں رہ اور دیکھ۔ پھر وہ اڑی اور بھیڑ کی دُم پر آ بیٹھی جسے قصّاب نے ذبح کرکے لوہے کے حلقے کے ساتھ لٹکا رکھا تھا۔

جونہی قصّاب گوشت لینے کے لیے اٹھا، بِھڑ خوف زدہ ہوکر اوپر کو اُڑی۔ قصّاب بھڑوں کی روز روز کی مصیبت سے تنگ آچکا تھا۔ اس نے اپنا بُغدہ اٹھایا اور بھیڑ کے جسم پر کچھ اس طرح مارا کہ کئی بِھڑیں ضرب کھا کر مر گئیں اور کئی نیم جان ہوکر زمین پر گرگئیں۔ چیونٹی کی ہمسایہ بِھڑ بھی انہی میں تھی۔

چیونٹی جو اُس وقت ایک طرف دیکھ رہی تھی، آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور اپنی ہمسایہ بھِڑ کا کھوج لگالیا۔ پھر اس سے کہنے لگی: مجھے بڑا دکھ ہے۔ ہم چیونٹیاں اس طرح کی زندگی جس میں ہر لمحہ خطرہ جان ہو، پسند نہیں کرتیں جب تک کہ کوئی بڑا مقصد ہمارے سامنے نہ ہو۔ تب تک ہمسایہ بھڑ مرچکی تھی اور جواب دینے سے قاصر!

چیونٹی مردہ بِھڑ کا پاؤں منہ میں تھام اسے کھینچ کھانچ اپنے گھر میں لے آئی اور اسی دیوار پر چڑھ کر اوپر لے گئی۔ پھر اُسے خشک توت کے ساتھ رکھ کر دوسری چیونٹیوں کو اطلاع کی اور کہا: آؤ اس بِھڑ کے بدن کو تکّہ تکّہ کریں۔ اس کے اندر موجود زہر کہیں دور پھینک دیں اور اس کا گوشت ذخیرہ کرلیں، موسمِ سرما میں کام آئے گا۔

(صدیوں پرانی سبق آموز کہانی جسے ڈاکٹر تحسین فراقی نے فارسی زبان سے اردو میں ڈھالا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں