تہران (18 مئی 2026): ایران آبنائے ہرمز کی گہرائیوں میں طاقت کے ایک نئے ذریعے پر نظر رکھے ہوئے ہے، اور زیر سمندر گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کی جائے گی۔
سی این این کے مطابق آبنائے ہرمز کی جنگی ناکہ بندی میں اپنی کامیابی کے بعد ایران اب عالمی معیشت کی ایک پوشیدہ شہ رگ کی طرف متوجہ ہو رہا ہے، اور وہ ہے زیرِ سمندر کیبلز، جو یورپ، ایشیا اور خلیج فارس کے درمیان انٹرنیٹ اور مالیاتی ڈیٹا کی وسیع تر ترسیل کرتی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران چاہتا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آبنائے ہرمز کے نیچے بچھائی گئی انٹرنیٹ کیبلز کے استعمال کے بدلے ادائیگی کریں، جب کہ ریاست سے وابستہ میڈیا اداروں نے مبہم انداز میں خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنیاں ادائیگی نہ کریں تو ڈیٹا ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔
تہران میں قانون سازوں نے گزشتہ ہفتے ایک ایسے منصوبے پر غور کیا جس کے تحت عرب ممالک کو یورپ اور ایشیا سے ملانے والی زیرِ سمندر کیبلز کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے 9 مئی کو ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایکس پر لکھا ’’ہم انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کریں گے۔‘‘
ایران کے خلاف جنگ کی تیاریاں تیز، امریکا سے اسلحہ بردار درجنوں طیارے اسرائیل پہنچ گئے
ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک میڈیا کے مطابق تہران کے اس منصوبے کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کو ایرانی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی، جب کہ زیرِ سمندر کیبلز چلانے والی کمپنیوں کو کیبلز گزارنے کے لیے لائسنس فیس ادا کرنا ہوگی۔ کیبلز کی مرمت اور دیکھ بھال کے حقوق صرف ایرانی کمپنیوں کو دیے جائیں گے۔
We will impose fees on internet cables.
— العميد إبراهيم ذو الفقاري (@Ibrahim_alFiqar) May 9, 2026
ان میں سے بعض کمپنیاں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرنے والی کیبلز میں سرمایہ کاری بھی کر چکی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ کیبلز ایرانی سمندری حدود سے گزرتی ہیں یا نہیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ ایرانی حکومت ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس پر عمل کرنے پر کیسے مجبور کر سکتی ہے، کیوں کہ سخت امریکی پابندیوں کے باعث ان کمپنیوں کو ایران کو ادائیگی کرنے کی اجازت نہیں۔ اسی وجہ سے ممکن ہے کہ کمپنیاں ایران کے بیانات کو سنجیدہ پالیسی کے بجائے محض سیاسی بیان بازی سمجھیں۔
تاہم، ریاست سے وابستہ میڈیا اداروں نے بالواسطہ دھمکیاں دی ہیں کہ کیبلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر کھربوں ڈالر مالیت کے ڈیٹا کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے اور دنیا بھر کے انٹرنیٹ رابطوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین سے واپس آنے کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، اور ایران مسلسل یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اس کے پاس فوجی طاقت کے علاوہ بھی طاقتور ذرائع موجود ہیں۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف توانائی کی ترسیل ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے، جب کہ تہران اپنی جغرافیائی برتری کو طویل المدتی معاشی اور تزویراتی طاقت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
زیرِ سمندر کیبلز عالمی رابطے کا بنیادی ڈھانچا ہیں، جو دنیا کے بیش تر انٹرنیٹ اور ڈیٹا ٹریفک کو منتقل کرتی ہیں۔ اگر انھیں نشانہ بنایا گیا تو صرف انٹرنیٹ کی رفتار ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ بینکاری نظام، فوجی مواصلات، مصنوعی ذہانت کے کلاؤڈ انفرااسٹرکچر، ریموٹ ورک، آن لائن گیمنگ اور اسٹریمنگ سروسز تک سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
بلومبرگ اکنامکس میں مشرقِ وسطیٰ امور کی ماہر دینا اسفندیاری کے مطابق ایران کی یہ دھمکیاں آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت ظاہر کرنے اور نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو اس جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا بنیادی مقصد ہے۔ انھوں نے کہا ’’ایران عالمی معیشت پر اتنی بھاری قیمت مسلط کرنا چاہتا ہے کہ دوبارہ کوئی اس پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


